Tuesday, March 26, 2024

ولیِ نہاں حضرت پیر سیّد عبدلخالق حسین شاہ علیہ رحمہ



ولیِ نہاں،حضرت پیر سید الحاج عبدلخالق حسین شاہ علیہ رحمہ

 

آئیے ہم سب سے پہلے  یہ سمجھتے ہیں کہ ولیِ نہاں کسے کہا جا سکتا ہے۔ جی ہاں! ولی  اللہ کا مطلب ہے اللہ کا دوست۔یہاں پر بھی ولی سے مراد ولی اللہ ہی ہے۔رہی بات ولیِ” نہاں “ کی تو لفظ نہاں فارسی کے مصدر ”نہادن“ کا حاصلِ مصدر ہے۔ اس کا مطلب یوں  ہوا کہ ایک ایسا ولی جو عام لوگوں کی   نگاہوں میں ایک عام سا شخص معلوم ہو، یا معمولی نظر  آئے مگر حقیقت  کچھ اور  ہو   ۔وہ شخص خدا کا کامل ولی ہو مگر ہر آدمی اس کی برگزیدیت  اور ولایت سے واقف  نہ ہو یا ایسے  نیک اور پہنچے ہوۓ خدا کے ولی کی شان سمجھ نہ سکے یا پھر  ایک عام آدمی ایسے ولی اللہ کا  ظرفِ ادراک سمجھنے سے قاصر المقصور رہ جاۓ۔ جیسا کہ سطورِ اولیٰ میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ ولی کا مطلب دوست ہے۔ یعنی اللہ عزوجل کا دوست۔جہاں تک نہاں“  لفظ کا تعلق  ہے یا بات ہے تو اس سے   مراد پوشیدہ خدا کا برگزیدہ شخص،  جس کی دعا شرف قبولیت رکھتی ہو  لفظ نہاں کا مطلب  مخفی یا پوشیدہ  ہوتا ہے۔ایسا ہی ایک خدا کا نیک بندہ ، سرزمینِ مینڈھر کے گاؤں ،موجودہ پنچایت عواں کالابن کے محلہ سیدّاں  ڈنہ شریف کے مقام پر برادریِ سعاداتِ پاک  میں اپنی حستی رکھتا تھا ۔ وہ  دین  کا علمبردار تھا۔ عاشقِ رسولؐ تھا۔ میلادِ پاک کا  قائل المقول تھا ۔ آدمی نواز تھا۔ انساں دوست اور سیدِ الرّاست  تھا۔بظاہر خود غریب تھا مگر غریب نواز تھا۔  اس خدا کے ولیِ کامل  کو عوامِ پیرپنجال حاجی صاحب“ کے نہایت ہی نیک اور برحق لقب سے پکارتے تھے۔  

  

ولی نہاں  کا اسمِ مبارک

 

حضرت پیر سیّد عبدلخالق حسین شاہ ،اس ولیِ نہاں  کا اسمِ مبارک تھا۔ چوں کہ خدا کے اس برگزیدہ پیارے  نے سعادتِ حج حاصل کر رکھی تھی تو لوگ  خدا کے اس نیک بندے کو  اسی نسبت سے حاجی صاحب“ کے لقب سے  نہایت ہی عزّت و احترام  کے ساتھ  پکارا کرتے تھے۔ علاقہ کا ہرجھوٹا بڑا، مرد ،عورت آپ کا حد درجہ احترام کرتا تھا۔ خدا کا یہ  ولی بھی ہر کسی سے نظرِ  نافیع  اور  دستِ شفقت سے پیش آ تا تھا۔  جس طرف کو آپ نکل پڑتے یا چل دیتے تو  لوگ آپ کو قافلوں کی صورت میں مقامِ مقصود تک لے جاتے۔ خدا کے اس ولیِ کامل کے اوصاف اس قدر اچھے تھے کہ  ہر کوئی آپ کے انہی اوصافِ حسنہ کی وجہ سے آپ کا مکمل طور سے دیوانہ اور گرویدہ  ہو جاتا تھا۔ 

 

ولیِ ںنہاں کی ولادتِ پاک 

 

خدا کے اس ولیِ کامل یعنی حضرت پیر سید الحاج عبدلخالق حسین شاہ علیہ رحمہ کی پیدائش تحصیل مینڈھر کی پنچایت عواں کالابن کے محلہ سیّداں میں سن 1947 کو ہوئی تھی۔ آپ تمام بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے۔ آپ کے برادرِ اکبر، حضرت پیر سید الحاج یٰسین حسین شاہ مدظلہ برکاتہ فرماتے ہیں، ” سن 1947 میں جب ملکِ ہندوستان کا بٹوارہ ہوا تو ریاست جموں و کشمیر جسے موجودہ برسرِاقتدار جماعت یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی نے 05 اگست 2019 کو  ریاست کا درجہ ختم  کر کے مرکز کے  زیرِ انتظام علاقہ یعنی دو یونین ٹریٹریز میں بدل دیا ہے ، میں  بٹوارے کی وجہ سے حالات بے حد غیر موافق اور غیر مساعد ہو چکے تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے سابق ریاست جموں و کشمیر کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ میں تبدیل کیا تو ایک انوکھا ریکارڈ بھی قائم ہوا۔ وہ یہ تھا کہ تاریخ میں ایسا تو ہوتا رہا ہے کہ کسی ملک کی یونین ٹریٹری“ ریاست میں تبدیل ہوتی رہی ہے مگر یہاں اُلٹ ہوا کہ ریاست جموں و کشمیر کو متذکرہ برسرِ اقتدار سیاسی جماعت نے  ریاست کے درجے سے ہٹا کر دو یونین ٹریٹریز میں بدل دیا ہے۔ یعنی ہم جموں و کشمیر کے باسیوں نے اپنی ریاست کو یو۔ٹی۔بنتے دیکھا ہے۔  تو یہاں بات ہو رہی تھی مُلک کے بٹوارے کی۔۔۔ لوگ حالات کو بگڑتا دیکھ کر اپنی جان و مال کی حفاظت اور نیّتِ امان ۔۔بلکہ جان اور اپنے پیاروں  کی سلامتی کی غرض سے محفوظ اور قدرِ امن و آشتی والی جگہوں کا رخ کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ یہ بات سن سنتالیس کی ہے۔ سنتالیس کا ہنگامہ بھی قیامت خیز رہا تھا۔اس ہنگامے میں آباد بستیاں ویرانوں کی نذر ہو گئی تھیں۔ ہنستے بستے گھر شہرِ خاموشاں کی بڑی  ہی دِل سوز و دِل خراش تصویر پیش کر رہے تھے۔ بیوی سے شوہر اور شوہر سے بیوی جدا ہو گئ تھی۔والدین اپنی اولاد سے جدا اور اولاد اپنے والدین سے دور ہو گئی تھی۔ یہاں یہ قمر جلالابادی کے گیت کی ابتدائی لائین مَیں (مصنف راجہؔ) بڑا زخموں سے رنجور اور غموں سے چور ہو کر لکھنے پر مجبور ہوں کہ ؎اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے : کوئی یہاں گِرا کوئی وہاں گِرا۔۔پھر کھینچ گئ درمیان میں ایک ”خون کی لکیر “ ۔۔۔ اسی دوران ہم بھی اپنے کنبہ کے ساتھ ساتھرہ پونچھ جہاں پر ہمارے رشتہ دار موجود ہیں، کی جانب رواں دواں تھے۔ کیوں کہ  یہاں پر یعنی تحصیل مینڈھر کے بالانی علاقوں میں  موجودہ ”طالبان“ کے مُلک افغانستان کے دارالخلافہ کابُل سے آئیے ہوئے قبائیلی مسلّح گرہوں نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا  تھا۔ آپ کو ایک دلخراش وقعہ بتاتا چلوں کہ ہمارا ایک بیل اُن ہی کابل سے آنے والے پٹھانوں کے ایک مسلّح گروہ نے مَکئی کی لڑی یعنی مکی کے گھٹے  کے اندر داخل کر کے مکی کی لڑی کو آگ لگا کر جلا ڈالا تھا۔ اس کے بعد پھر اُس آدھ موئے اور آدھ جلے بیل کو انہوں نے بطور گوشت استعمال کیا اور کاٹ کھایا۔ یہ لوگ اتنے ظالم تھے کہ مستورات کے زیورات کو ان کی ناک اور  ان کے کانوں سے زبردستی نکال کر چھین لیتے تھے۔  جس کی وجہ سے خواتین کے ناک اور کان لہو لہو ہو جاتے تھے۔ تو ہم بھی اسی ہنگامے میں یعنی سن سنتالس میں  کالابن ڈنہ سے کوچ فرما کر براستہ شیندرہ سے ہوتے ہوۓ ”ساتھرہ“ پونچھ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ راستے میں ہمیں دریا کو بھی پار کرنا تھا۔ یہ سچ ہے اور مشہور کہاوت بھی کہ ”مصیبت“ اکیلے نہیں آتی۔ ساتھرہ پونچھ  جانے کے پیچھے یہ وجہ کارفرما تھی کہ یہ جگہ قدرِ محفوظ  تھی ۔ تو جیسے ہی ہم دریا پار کرنے لگے تھے کہ دریا میں بلا کی طغیانی بھی آ ئی ہوئی تھی۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ  حاجی صاحب کی  اس وقت عمر محض دو ما ہ کی تھی اور انہیں ہمارے والدِ ماجد حضرت پیر سیّد نبی شاہ نے جھولنگے یعنی چادر میں باندھ کر  کمر کے ساتھ لگایا ہوا تھا۔ اس وقت حاجی صاحب بیمار بھی تھے۔ اسی دوران ہمارے ساتھ ہی دریا پار کر رہا ایک شخص جو ایک چروَہا تھا، نے ہمارے ابّو جان سے برملا کہہ دیا کہ حضرت جی آپ بُرا نہ مانے  یا غیر نہ جانے تو میں  آپ کو ایک مشورہ دیتا ہوں۔ ہمارے والدِ بزرگوار نے  بڑے  ہی تحمُّل اور نہایت ہی بُردباری سے اس شخص سے جواباً کہا کہ جناب کا مشورہ ء نیک سر آنکھوں پر، دیجیئے مشورہ۔۔تو وہ شخص کہنے لگا کہ حضرت آپ سمجھ دار ہیں اور موجودہ حالات و وقعیات سے بھی خبردار  ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ غدر جاری ہے،ہر   پاسے خون کی نہریں بہہ رہی ہیں،ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے، ہر جانب مارا ماری ہے اور آپ  کا یہ بچہ بیمار بھی ہے ،آپ ایسا کریں کہ اپنے جھولنگے کو ذرا ڈھیلا کر دیں تاکہ یہ بچہ دریا میں  گر جاۓ اور ایک طرح سے دریا بُرد ہو جاۓ گا۔ اس شخص کا یہ نیک مشورہ سن کر ہمارے ابّا جان کی آنکھیں لال ہو گئیں۔جب دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچے تو ہمارے   والد صاحب  نے  اس شخص سے کہا کہ تو نے مجھے بڑا بہترین مشورہ دیا تھا مگر میں نے تیرے اس  بچہ کُش مشورے کو یکدم نذر انداز کر دیا   اور بچے کو صحیح سلامت  دریا کے اس کنارے پر لے آیا ہوں۔ “ حضرت پیر سید الحاج یٰسن حسین شاہ  مزید کہتے ہیں ”بس اب سمجھ آیا یعنی حاجی صاحب کے وصال کے بعد کہ میرے برادرِ  نیک یعنی الحاج عبدلخالق حسین شاہؒ  کی یہ پہلی کرامت تھی۔“  الحاج پیر سید یٰسین حسین شاہ اپنی بات چیت کا سلسلہ جاری و ساری رکھتے ہوۓ  فرماتے ہیں” میرے برادرِ  اصغر یعنی الحاج عبدلخالق حسین شاہؒ اپنے زمانے کے مشہور و معروف پہلوان بھی رہے تھے۔ باہں پکڑنا ، بلوندرو اٹھانا اور کُشتی اور جَپھی کرنا موصوف کا خاص مشغلہ رہتا تھا۔ سخی میدان کے مقام پر سخی شاہ سروَر سرکار کی بھیٹک پر ہر سال میلہ لگتا تھا جو کہ آج بھی لگتا ہے اور ضلع بھر سے پہلوان اس میں شرکت کرتے ہیں اور اپنے ہنر و فن کا مظاہرہ  کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح حاجی صاحب  اللہ مغفرت کرے ،بھی میلے کی زینت بنا کرتے تھے اور وہاں پر منعقدہ تمام کھیلوں میں حصہ لیا کرتے تھے اور اپنا ایک مخصوص مقام رکھتے تھے۔

عصر گوںتریاں مغرب کالابن 

 

مشہور و معروف مناظرِ اسلام اور امام و خطیب جامع مسجد  ڈنہ سیّداں جو دربارِ پیر سیّد مہر علی شاہ سرکا زمانہء مشہور  قلندرِ دوراں  ولی کے زیرِ سایہ   اپنی نمایاں دینی خدمات انجام دیے رہے ہیں، علامہ مولانا حافظ نصیر احمد رضوی نے  ولیِ کامل کی نمازِ جنازہ پر تشریف لاۓ ہوۓ  سیکڑوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوۓ فرمایا ہے ، ” میں نے خود حضرت (پیرسید الحاج عبدلخالق حسین شاہؒ) کی سچی و سُچی زبانِ مبارکہ سے سنا ہے کہ آپ فرماتے ہیں" میں  نے  مجذوب ولی حضرت سائیں بابا  میراں بخش علیہ رحمہ کے حضور حاضر ہونے  کا  قصد کیا تو میں نے اپنے گھر سے کچھ تاخیر سے  دربارِ  گونتراں شریف پونچھ کی طرف پیادہ پا  سفر شروع فرمایا ۔ اس وقت گاڑی کی سواری نایاب تھی اور نہ ہی سڑکیں یا پختہ راستے  ہوا کرتے تھے۔ الغرض میں پیدل ہی  گونتریاں کی طرف چل پڑا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں سائیں بابا میراں بخش علیہ رحمہ  کے حضور گونتریاں پونچھ پہنچا تو اس وقت عصر کی نماز کا وقت تھا اور میں نے نمازِ عصر وہاں پر  ادا کی ۔ پھر بابا جی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اسی دوران ولیِ مجذوب سائیں صاحب نے مجھ سے استفساراً فرمایا اور پوچھنے لگے کہ شاہ جی  واپس جانا ہے یا یہاں ہی بسیرا کرنا ہے؟۔ بابا جی کے اس استفسار پر میں کافی دیر تک خاموش رہا پھر   بابا جی خود ہی فرمانے لگے کہ” اگر شاہ جی آپ  گھر واپس جانا چاہتے ہیں تو چلے جاؤ ان شاہ اللہ آپ خیرو عافیت سے  اپنے خانہ پر پہنچ جاؤ گۓ۔“ بس پھر میں نے وہاں سے چلنا شروع کر دیا۔ کیا بتاؤں کے میرے چلنے کی رفتار اس قدر تیز تھی کہ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میں چلتا کم ہوں اُڑتا زیادہ ہوں۔ مرشدِ پاک کی نگاہ کا بھی کمال تھا اور میرے خالص عشق کا دھمال بھی تھا۔ تو بس میں نے شام آکر یعنی نمازِ  مغرب کالابن میں ادا کی۔“  ان باتوں سے معلوم ہو ہی جاتا ہے کہ حضرت کا اولیاءِ کاملین کے ساتھ کس قدر روحانی و ایمانی لگاؤ اور دینی تعلق تھا۔“  اس ولیِ کامل کی ایک اور کرامت ان کے برادرِ اکبر  ،حضرت پیر سید یٰسین حسین شاہ  بیان فرماتے ہیں ، ” حاجی صاحب کوٹ پر لمبردار سردار یعقوب خان   صاحب ،جن کے دور میں یہ مشہور تھا اور سچ بھی ہے کہ لمبردار سردار یعقوب خان کے دور میں کھبی پولیس ان کے گاؤں میں آکر کسی معاملے میں ان  کی کسی سامی کو کبھی گرفتار کر  کےنہیں لے گئی تھی۔ لمبردار سردار جی  کا دور بہت  ہی سنہری دور رہا ہے  اور سردار جی بھی اولیاء سے بے حد رغبتِ حق رکھتے تھے۔ لوگ انہیں "لالہ جی "کوٹ والا کے نام سے پکارا کرتے تھے،خدا ان کی مغفرت فرماۓ امین! لمبردار،سردار یعقوب خاں (لالہ جی) کو خدا کی جانب سے ،نبیؐ کے ساتھ عشق اور اولیاء کے ساتھ سَچی و صاف عقیدت رکھنے کی وجہ سے ،ہر ایک نعمت سے نوازا گیا تھا۔ حسن،جاں،مال اور دولت کی فروانی، نعمتِ اولاد، خوش اخلاق اور انداز بے باک۔۔ تمام صفاتِ حسنہ سے (لالہ جی) خدا کے فضل و کرم سے سرشار تھے۔ آپ اپنی آواز ( اَلا) میں اپنا منفرد مقام رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کے بیٹے سردار کفیل خاں صاحب اپنے بچپن کے دور میں اپنے نونہال (نانا نانی) کےہاں سڑھوتی تشریف لے گۓ مگر گھر کسی کو بتا کر نہ گۓ تو شام سے کچھ پہلے لالہ جی اللہ ان کی مغفرت فرماۓ بہت ہی نیک ہوا کرتے تھے،مجھ سے (تذکرہ نویس ،رمیز راجہ ) بے حد پیار فرمایا کرتے تھے اور مجھے نیکا مولوی کہا کرتے تھے۔۔تو سردار جی نے ان کی تلاش شروع کی تو ان کی شک کی سوئی سڑھوتی جا پہنچی اب کنفرم کیسے ہو کہ وہ وہیں پر یعنی اپنے نونہال میں براجمان ہیں اور نونہال کے سدا بہار پیار والے درخت کے زیرِ سایہ ہیں ، فون تو ہوتا نہیں تھا یہ تو بھلا ہو اٹل بہاری واچپائی جی کا کہ جن کے دورِ حکومت میں سن ستانوے آٹھانوے میں سپریم پاور امریکا کی ایک "نوکیا“ نامی موبائل مینو فیکچرینگ کمپنی نے ملکِ بھارت میں اپنی انٹری ماری تھی۔ ارے کیا بات کرتے ہو! موبائل تو کل کی بات ہے۔۔خیر لالہ جی نے” اَلا“ کے ذریعے اپنی آواز سڑھوتی تک پہنچا دی۔وہ اس طرح ممکن ہوا تھا کہ لالہ جی نے چھترال کسی  آدمی تک اپنی آواز پہنچائی اس نے آگے۔۔اگلے نے اگلے کو اس نے اس سے آگے والے کو۔۔۔تو یوں لالہ جی نے سردار کفیل خاں جو موجودہ وقت میں کسی تعارُف کے محتاج نہیں ہیں، کے بارے میں کنفرم کر ہی لیا ۔ جی ہاں تو انہیں کے گھر پر حاجی صاحب ختمِ نجات کا وظیفہ فرما رہے تھے کہ بھٹی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام کالا تھا، حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ حاجی جی  رات کو میرے ہاں چوری ہو گئی ہے، چور زیور چرا لے گۓ ہیں۔ تو حاجی صاحب اللہ ان کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرماۓ ،  بطورِ لطافت  فرمانے لگے کہ کالیا تو وی زیور پینناں ویں“ یعنی زیور تو عورتوں کا حاصہ ہوتا ہے۔ سجنا سنورنا تو عورتوں کی طبعی فطرت میں ہوتا ہے۔ تب کالا بھٹی کہنے لگا ”حاجی جی میری زوجہ کا زیور ہے جس کی   بابت میں آپ کی خدمت میں عرض گزار ہو رہا ہوں۔ “ رات کا تقریباً آخری پہر تھا حاجی صاحب نے  اس  سے کہا کہ جا تیرے گھر کے پاس جو مَنّو کا درخت ہے اسی کے نیچے  زیور  دبایا گیا ہے ؛ جا! جا کر اٹھا لیے اور ابھی جا کیوں کہ صبح کے وقت تجھے  تیری عورت کا زیور شاید ہی ملے۔ شاید تو نے یہ محاورہ سن رکھا ہو گا” پچھتائے کیا ہوت جب   چڑیا چُگ جائے کھیت۔“ بس پھر کیا تھا  کالا خان نے اپنی ٹانگوں پر سپیڈ پئوڈر مَلا اور  چلا گیا اور جس جگہ حاجی صاحب نے اسے زیور ڈھونڈے کے لیے کہا تھا عین وہیں سے اسے  برآمد ہو گیا۔“   
 
بابا نے چادر تنوا دی 
 

مرکزی جامع مسجد کوٹ کے امام و خطیب ،علامہ مولانا راجہ مختار احمد خاں نقشبندی فرماتے ہیں، ”ایک مرتبہ حاجی صاحب اپنی مبارک زبان سے ،میں نے یہ فرماتے ہوۓ اپنے کانوں سے سماعت کیا ہے  کہ حاجی صاحب کے خداۓ بزرگ و برتر  درجات بلند فرماۓ ”فرماتے ہیں کہ میں (حاجی صاحب)  ولیِ قلندرِ دوراں سے ملاقات کا اشتیاق لیے ،ان کے دربار گونتریاں پونچھ میں حاضر ہوا تو وہاں پہنچ کر معلوم  ہوا کہ  سائیں بابا میراں بخش علیہ رحمہ   کہیں اور کسی جگہ پر تشریف لے گۓ  ہیں۔ چنانچہ میں بھی جگہ کی بابت دریافت کر کے وہاں  ہی تشریف لے گیا تو جب اس مقام پر جہاں بابا جی  موجود تھے  پہنچنے کو تھا کہ  بابا جی کی نظر مجھ پر پڑی تو بابا جی نے فوراً  دو آدمیوں سے  کہہ کر اپنے سامنے چادر تنوا دی اور  ایک آدمی کے ذریعے مجھے واپس لوٹ جانے کے لیے کہلوا بھیجا۔ میں واپس جانے لگا تو سائیں صاحب نے پھر ایک شخص میری جانب چلایا اور مجھے واپس بلوا لیا۔ کچھ دیر ابھی بیٹھے ہی  تھے کہ اتنے میں ایک شخص  محفل میں  حاضر ہوا اور سائیں بابا سے فرمانے لگا کہ گیارویں شریف تیار ہے۔تب اسی محفل میں سے ایک شخص بولا کہ وضو کر لیتے ہیں پھر دعا کرتے ہین۔۔تبھی بابا جی میری طرف متوجہ ہوۓ اور کہنے لگے ”شاہ جی تَم دُعا منگو ۔۔تَم کلائی وَر ناغے آیاں وائیں “ یعنی  شاہ جی آپ دعا فرمائیں آپ تو کلائی پونچھ پر غسل فرما کر آۓ ہو۔ پھر میں نے تبروکِ گیار ویں شریف پر دعا فرمائی۔

  والد محترم

حضرت پیر سید الحاج  عبدلخالق حسین شاہ ؒ کے والد ماجد کانام حضرت پیر سید نبی شاہ تھا۔  ان کے (حاجی )والد محترم کے متعلق کہا جاتا ہے کہ نہایت ہی شریف  شخصیت کے مالک تھے۔ کہا جاتا ہے کہ  تنگدستی و عُسرت بھری زندگی کے باوجود وہ اپنی محنت کی کمائی سے اپنی اولاد کی کفالت کرتے رہے تھے یہی وجہ ہے ، الحاج پیر سید عبدلخالق حسین شا علیہ رحمہ جیسے ولیِ نہاں ,اولادِ نرینہ اور صافِ سینہ سے، اللہ ﷻ نے  نوازا تھا۔ آپ کے والد گرامی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ آپ بھی پہلوان تھے اور اپنے زمانے کے منفرد پہلوان۔ حضرت سید نبی شاہ اور ان کے بھائی کے ما بین کسی زمینی تنازعہ پر اکثر یلغار ہوتی رہتی تھی اور معاملہ کوٹ کچہری تک جا کر دم لیتا تھا۔ آپ  عجز و انکساری  کے وصف سے حد درجہ  نوازے ہوۓ تھے۔  ایک زمانہ تھا جب ڈنہ کی پہاڑی پر رزق کی قلت ہوا کرتی تھی اور یہ اہلِ رسول اس غرض  سے  دوسرے مالداروں کی زمینوں کو بطور پہیال یا حصہ دار کما کر بود و باش  کا ذخیرہ  اکھٹا کر کے  لاتے تھے اور اپنے بال بچوں کو کھلاتے تھے۔  مگر اب موجودہ وقت میں ڈنہ شریف پر لنگر جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر  انگنت اور بے شمار  لوگ  اس نعمت سے مستفید  اور فیضیاب ہو رہے ہیں۔ یاد ر ہے کہ جس لنگرِ پاک کی یہاں بات ہو رہی ہے وہ لنگرِ غوثیہ ہے جو ولیِ برحق پیر سیّد مہر علی شاہ سرکار کی زیرِ قیادت جاری و ساری ہے۔ اللہ کے اس ولی کی شان نرالی ہے۔ یہاں پر ایک عظیم الشّان جامع مسجد ہے اور ایک نہایت ہی عمدہ اور معیّاری مدرسہ بھی قائم ہے۔  یہ  دینی ادارہ عصرِ حاضرہ کے عین مطابق علوم و فنون کا سرچشمہ و منبہ ہے۔ یہاں پر حضرت  علامہ مولانا حافظ نصیر احمد رضوی  امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ موصوف کا ذکر سطورِ بالا میں بھی ہو چکا ہے۔ حافظ صاحب سعاداتِ کرام کے بے حد عقیدت مند ہیں جو کہ ہر اُمتی کو ہونا بھی چاہیے۔ میں بطور ایک ادنا سا کالم نویس ، سوانح نگار یا  آپ قارئین مجھے تذکرہ نگار کہہ لیں، حافظ نصیر احمد رضوی صاحب کو  مسالکِ پلیدیہ کے لیے زبان دراز اور مسلکِ حق کے لیے زبان گو“ قرار دیتا ہوں۔  جب یہ خطاب فرماتے ہیں تو بھلے ہی  بجلی کا محکمہ بجلی کاٹ دے ، چاہیے انویٹر بھی ڈیڈ ہو جائے جس سے لوڈ اسپکیر بند ہو  کر ٹھنڈا پڑ جاۓ مگر خدا کے اس شیر کی یہ خاصیت ہے کہ آواز اتنی بلند کہ بہَ بانگِ کوہ  جمِ غفیر کو مخاطب کر سکتا ہے۔ حافظ  نصیر  صاحب کے لیے اسپکر کا ہونا یا نہ ہونا کچھ اہمیت نہیں رکھتا بلکہ    ناخواست ہے ۔!ماشااللہ
     
آ پ کے برادرانِ محترمان

 

آپ کے برادران میں ،حضرت پیر سید الحاج یٰسین حسین شاہ ،حضرت پیر سید نذر حسین شاہ، حضرت ولایت حسین شاہ اور خود حضرت پیر سید عبدلخالق حسین شاہ علیہ رحمہ شامل تھے۔ یہاں آپ کو بتاتے چلیں کہ ان چاروں بھائیوں کی نیچر ایک دم ایک دوسرے سے الگ اور منفرد رہی ہے۔ حضرت پیر سید الحاج ، یٰسین حسین شاہ بھارتی فوج میں اپنی نمایاں خدمات سر انجام دینے کے بعد نہایت ہی پروقار  طریقے سے سبک دوش ہو چکے ہیں۔ حضرت پیر سید نذر حسین شاہ  صاحب کے ایک لختِ جگر یا یوں  سمجھیے کہ  صاحبزادہ پیر سید نازک حسین شاہ  بھی بھارتی فوج میں اپنی تمام تر خدمات انجام دینے کے بعد بطور  کپٹین سبک دوش ہوۓ ہیں۔ پیر سید نذر حسین شاہ اپنے زمانے کے نامور شکاری اور قابلِ فخر مکینک رے ہیں۔ سید نذر حسین شاہ شکار میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔آپ کے گھر ہر روز باز حملہ کرتا اور مرغی کا ایک چوزہ لے اُڑا کرتا تھا۔ ایک روز آپ کے سامنے باز سے یہ گُستاخی سرزد ہو گئی تو آپ سے رہا نہ گیا آپ نے اپنی لائسنس یافتہ رائفل سے ایسا نشانہ بندھا کہ باز کی روح نکلنے سے باز نہ رہ سکی ۔ پیر سید ولایت حسین شاہ   غدر کے ہنگامے کے دوران ملکِ پاکستان چلے گۓ تھے جہاں  وہ  بطور مہاجرانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور رہے تھے۔ ان بھائیوں کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ ایک بھائی بچپن میں ہی اس عارضی دنیا سے رحلت فرما گیا تھا۔ جب کہ ایک بہن جس کا نام سیدہ شہزادی تھا آسمانی بجلی گرنے سے جامِ شہادت نوش کر گئیں تھیں۔ جب شہزادی سیدزادی کی شہادت ہوئی تو آپ نے اپنے پیچھے اپنا ایک شیر خوار لختِ جگر  چھوڑا تھا۔ اور یہ بچہ کوئی اور نہیں موجودہ دور کا ولیِ کامل المجذوب حضرت سید عابد حسین شاہ ”پیرِ جلالی“ ہے۔ اس ولیِ مجذوب کی کفالت بھی حاجی صاحب نے کی تھی۔ 

 

حاجی جی بطور دعا گو

 

ولی نہاں حضرت سید الحاج عبدلخالق حسین شاہ  نے تحصیل مینڈھر کے مقام  چھوٹے شاہ بادشاہ علیہ رحمہ کے دربار پر اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بطور دعا گو  گزارا تھا۔ یہاں یہ امر بھی ”نئی نویلی نسلِ نیٹ“ کو بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ تحصیل مینڈھر کا قدیم نام ”دھرم سال“ ہے جب کہ راجہ منیندر کے نام سے مینڈھر کا نام پڑا ہے۔ چھوٹے شاہ بادشاہ سرکار جہاں دو  معصوم بھائی بہن جلوہ افروز ہیں ، کی بھی انگنت کرامات کا ذکر کچھ تھوڑا بہت کتب میں  جب کہ زیادہ  تر  بزرگوں کی زبانی سینہ بسینہ جو روایات ہیں، میں ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب ان دونوں بھائی بہن کا بچپن کا زمانہ تھا تب یہ سیڑی ڈاب کے پاس بیٹھ کر کھیل رہے تھے۔ وہاں پر قریب ہی سے دھڑہنے توڑ کر کھیل رہے تھے۔ جس دھڑہنے کو انہوں نے جس بھی جانوَر کا نام دے کر سیڑی کی ڈاب میں پھینکا وہ حقیقتاً وہی جانور بن کر ڈاب سے باہر آیا۔ لوگوں نے جب یہ حیرت انگیز کرامت دیکھی تو ان کے والد ماجد کو  ان کا یہ عمل بتایا۔تحقیق کے بعد جب ان کے والد کو اس حقیقت کا راز کھلا تو وہ سمجھ گے کہ ان بچوں نے تو اپنی ولایت کا رازِ پوشیدہ عیاں کر دیا ہے تو وہ انہیں ڈانٹنے ڈھپٹنے لگے  جب ان  دونوں نے دیکھا کہ ہمارے اس فعل سے ہمارے ابا حضور نا خوش ہیں تو آپ دونوں نے  اپنے ابا جاں کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے  بھاگ  جانا ہی عافیت بھرا اور  مناسب سمجھا اور بھاگ ہی گۓ۔اسی چھوٹے شاہ کے مقام پر زمیں شق ہوئی  اور وہ دونوں بھائی بہن زندہ   اس میں  سما گۓ۔   اس  پہنچی ہوئی زیارت پر انہیں انتظامیہ اوقافِ اسلامیہ میں بطور ملازم شامل کیا  گیا تھا۔ اس ولیِ نہاں نے یہاں پر بے لوث خدمات سرنجام دیں اور ولی و ولیہ کاملین کی قربت سے  مستفید ہوتے رہے۔ 

 

سفرِ حج مبارک۔

 

حضرت پیر سید عبدلخالق حسین شاہ ،ولی نہاں نے عین زمانہ ء شباب میں سن 1976 کو سفرِ ححج کیا اور بذریعہء بحری جہاز سرزمینِ پاک پر اپنے قدم رکھے اور ارکان  حج ادا کیے۔ اسی سبب نیک سے آپ اپنے نانا جی حضور کے روزہ مبارک پر مدینہ شریف میں وارد ہوۓ اور   روزہ مبارکہ کی  سنہری  جالیوں کو رج رج کے چومنے کا ظاہری اور روحانی  موقع کا شرف حاصل ہوا۔  آپ جب  سفرِ حج پر روانہ ہوۓ تو آپ کے جگری دوست ڈاکٹر نذیر حسین انؔس  جو  مشہور ادیب اور مصنف ہیں جن کی حال ہی میں پہاڑی شاعری پر مشتمل شعری  تصنیف  ، بعنوان” موجاں عشق نیاں“ دہلی سے  طباعت ہو کر  منظر عام پر  آ  چکی ہے، نے بیان کیا ہے ” رات کے وقت یعنی جس دن حاجی صاحب  سفرِ حج پر  روانہ ہوۓ تو میں نے( انؔس) پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے  پیارے آقا ؐ مدینہ کے تاجدار ،کل نبیوں کے سردار اور دونوں جہانوں کے مختار   سے  پر لطف شکوَہ کیا ،” اللہ کے حبیب ! امّت کے پیارے نبیؐ !  آپؐ نے  اپنے لاڈلے کو اپنے پاس ُبلا لیا  نا!  کیوں کہ وہ آپؑ  کی اہلِ پاک سے تعلق رکھتا ہے اس لیے یانبیؐ آپ نے اسے دربار پر طلب کر لیا۔اور یانبیؐ! مجھے آپ نے نہ معلوم کیا سمجھ کر نہیں بلایا ! نہ ہی کوئی اسباب"۔۔بس پھر کیا تھا کہ  میری آنکھ لگ گئی اور میں اپنے پیارے نبیؐ کا بذریعہءخواب دیدار پاک کا شرف حاصل کرنے میں سرخرو  ہو گیا۔ اللٰہُ اکبر!  دورانِ سفرِ حج آپ کے ساتھ  چوہدھری حاجی صاحب دین عرف حاجی صاحوا، حاجی نوردین،حاجی حاکم دین عرف مستری حاکم (قریشی) اور  حاجی دوست محمد عرف حاجی دوسہ شامل تھے اور یہ حضرات بھی اسی  بحری جہاز  کے ذریعے ہی سر زمینِ مقدّس یعنی سعودی عرب پر پہنچے تھے۔ 
 
تعمیرِ تکیہ شریف   

 

جموں و کشمیر کے اولیاء کے سردار ولی،سرکارِ جبلی، حضرت پیر سید بابا غلام علی شاہ بادشاہ  علیہ رحمہ کی بھیٹک جو  تحصیل مینڈھر کے گاؤں کالابن یعنی پنچایت تکیہ کالابن میں ہے ،پر آپ کو  اوقاف اسلامیہ نے بطور چند ہ وصول کنندہ تعینات کیا تو آپ نے لاکھوں روپیہ  کا چندہ وصول کر کے متعلقہ انتظامیہ کے سپرد کیا جس کی وجہ سے تکیہ شریف پر تین منزلہ مسجدِ پاک کے ساتھ ساتھ دیگر تعمیرات  پاۓ تکمیل کو پہنچی اور یہاں تعمیرات کا  سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔ یہاں پر چندہ وصولی کی غرض سے حاجی صاحب نے ماسٹر ظاہور احمد خان جنجوعہ اور ماسٹر محمد عارف قریشی صاحبان کو بھی تعینات کیا۔ ان دونوں ماسٹر صاحبان نے اس قدر دل جمعی اور لگن سے اپنی خدمات سر انجام دیں کہ  ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں لاکھوں روپیہ چندہ جمع کر کے متعلقہ انتظامیہ کے سُپرد کیا۔ ماسٹر ظاہور احمد خان اور   ماسٹر محمد عارف قریشی یہ دونوں فرشتہ صفت انسان ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دونوں گہرے دوست بھی ہیں ۔ دونوں کا لہجہ نہایت ہی پُر حلیم ہے۔ علم کے اعتبار سے خاموش سمندر ہیں۔ ماسٹر ظاہور احمد خان جنجوعہ اور ماسٹر محمد عارف قریشی  بہترین مصالح بھی ہیں۔ اِن دونوں صاحبان کے ساتھ حاجی صاحب بہت پیار فرمایا کرتے تھے۔ یہاں مَیں ایک عرض  اور کیے دیتا ہوں کہ حاجی صاحب  کو تکیہ شریف کالابن پر لانے کی سعی سب سے زیادہ جموں و کشمیر کی جانی پہچانی شخصیت جو کہ مشہور قانون داں اور سیاستداں ہیں ،میری مراد معروف خاں صاحب ہیں،  نے کی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ موصوف جانتے تھے کہ حاجی صاحب کی وجہ سے  بیرونی نیز اندرونی امداد میں گراں قدر اضافہ ہو جاۓ گا اور ہوا بھی بالکل عین خاں صاحب کی سوچ کے مطابق۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ پنچایت تکیہ کلابن جو کہ ایک الگ پنچایت ہے ، کے  باحثیتِ پنچایت معرضِ وجود میں لانے میں معروف خاں صاحب کا کُلیدی بالکہ کُلی رول رہا ہے۔  

 

 جشنِ میلاد النبیﷺ   

 

ولی نہاں الحاج حضرت عبدلخالق حسین شاہؒ اور بکمال عاشقِ رسول اپنے نانا پاک کی میلاد  بڑے ہی جوش و جذبے اور بے حد عقیدت کے ساتھ  اپنے غریب آستانہ پر  پڑھوایا کرتےتھے۔حاجی صاحب کے گھر بمقام ڈنہ سیّداں میں جب میلاد النبیؐ کا پروگرام یعنی کانفرنسِ پاک  کا انعقادِ پاک ہوتا تھا تو ہر سو سے عاشقانِ رسولؐ  شاندار جلوس کی شکل میں تشریف لاتے اور میلاد کی رونق کو دوبالا کرتے۔ جب ختماتِ  طیّبات کا دور شروع ہوتا تو حاجی صاحب اکثر و بیشتر  ”تسبیح “ کی ذمہ داری لکچرر قدیر احمد خاں کو سونپ  دیا کرتے تھے۔ قدیر احمد خاں کی  دعوت  کو حاجی صاحب حتی الامکان  پورا کرتے ۔ اسی طریقے سے قدیر احمد خاں صاحب کو بھی حاجی صاحب مغفور  اپنے ہاں  تشریف لانے کی  دعوت  دیا کرتے تھے اور لازمی طور آنے کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔ قدیر احمد خاں کی شریکِ حیات کی نمازِ جنازہ بھی حاجی صاحب مغفور کی امامت میں ادا ہوئی تھی۔ خطہ پیر پنجال  کے مشہور و معروف تعلیم داں اور جنجوعہ برادری کے  سرکردہ لیڈر،  اور سابق ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر ، ”سر“ راجہ محمود خاں سے بھی حاجی صاحب کو بڑی الفت و محبّت تھی۔ راجہ محمود خاں صاحب کی ولدہ ماجدہ نے جب اس عارضی دنیا سے پردہ فرمایا اور عالمِ برزخ میں تشریف فرما ہوئیں تو اُن کی نمازِ جنازہ بھی الحاج حضرت پیر سیّد عبدلخالق حسین شاہ علیہ رحمہ کی امامتِ پاک میں ادا ہوئی تھی۔امید ہے کہ میلادِ پاک کا سلسلہ آئندہ بھی ان کے صاحبزادے رفاقت حسین شاہ جاری و ساری رکھیں گۓ! ان شاء اللہ  

 

ولیِ نہاں کا وصال پاک۔

 

حضور پیر سید الحاج  قلیل سی علالت کے بعد
بتارریخ 23 مارچ  2024 بمطابق رمضان 10  اور1445 ہجری کو دن جمعرات صبح آٹھ بج کر چھیالیس منٹ پر  اپنی جاں جانِ آفرین کے سپرد فرما کر اس فانی دنیا سے وصال فرما گۓ۔ آپ کی نمازِ جنازہ نو جوان سید زادہ حضرت علامہ مولانا سرفراز حسین شاہ مدظلہ برکاتہ نے ادا کروائی ۔ آپ کی نمازِ جنازہ دن کے تین بجے آپ کے  ابائی گاؤں  میں ادا کی گئی۔ مجذوب ولی حضرت پیر سید عابد حسین شاہ کے آستانہ کے اوپر کی جانب ایک نۓ قبرستاں  میں   آپ کی آخری آرام گاہ بنی۔ آپ کی نمازِ جنازہ میں دونوں اضلاح راجوری پونچھ سے سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت فرمائی ۔آپ کی جہاں بہت ساری  عیاں اور نہاں کرامت تھیں وہیں آپ کی ایک کرامت  یہ بھی تھی کہ  آخری دم تک آپ ہر ایک عیادت دار کو پورے حوش  وحواش سے  پہچانتے رہے اور اس کی سلام کا جواب دیتے رہے۔ پھر جب عین وصال کا وقت آیا تو آپ نے کلمہ  طیّبہ پڑھ کر اپنی جان  جانِ آفریں  کے سپرد کی۔ بقول غالب،؎ جاں دی، دی ہوئی اسی کی تھی : حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ آپ  نے اپنے پیچھے اپنا  اکلوتا لختِ جگر پیر سید رفاقت حسین شاہ  چھوڑا ہے۔رفاقت حسین شاہ کے ہاں بھی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔  صاحبزادہ  (رفاقت ) کے   اندر بھی اپنے والد کی طرح اوصافِ حسنہ موجود ہیں مگر اس نیک سیرت شہزادہ کو فوراً اپنی تمام صلاحتوں کو بروۓ کار لانے کی اشّد ضرورت ہے۔یہ بات اس لیے بھی نظر آرہی ہے کہ حاجی صاحب مغفور کے چاہنے والے اب حضرت سید رفاقت حسین شاہ  میں اپنے ولی کامل کا عکس دیکھیں گۓ۔ آپ کو  اس امر سے بھی روشناس کرتے چلیں کہ الحاج  حضور سید عبدلخالق حسین شاہ ؒ  علاقے کے امام و نکاح خواں بھی تھے۔جب کہ اب یہ ذمہ داری ان کے نیک سیرت و صورت  او ر اکلوتے لخت  جگر کے نازک اور نا تجربہ کار   شانوں پر پڑھ رہی ہے۔میں (رمیزراجہ) سید رفاقت حسین شاہ کی رفاقت میں زمانہء کالج میں رہا ہوں ، میں انہیں  اگر  ان کے متعلق سب کچھ نہیں تو بہت کچھ جانتا ہوں۔یہ بڑے ناز و نیاز سے پلے بڑے ہیں۔ان کی ہر جائز مانگ کو ان کے والدین نے مانا ہے اور حتی الامکان پورا بھی کرتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے غریب سے غریب  ماں باپ بھی اپنی اولاد کے لیے بادشاہ ہوا کرتے ہیں۔سید رفاقت شاہ کو عربی و فارسی زبانوں کے ساتھ ساتھ   تقریباً تمام عصری زبانوں اور علوم پر دستِ قدرت حاصل ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ میری ناقص راۓ ہے کہ شاہ صاحب کو اپنی طبعیت میں عنصرِ  حلم  پیدا کرنا ہوگا اور بغیر کوئی دقیقہ فروگزاشت کیے ہوۓ عوام کے ساتھ گُل مل جانا ہوگا۔” کیوں کہ وہ گُلاب ہی کیاجس سے خوشبو نہ آتی ہو “اور ساتھ ہی ساتھ انہیں اپنے کارو بار کو بھی  متناسب  طریقے سے جاری رکھنا ہو گا۔ حاجی صاحب کے اس لاڈلے نورِ نظر یعنی رفاقت حسین شاہ کے علاوہ  دو شہزادیاں بھی ہیں  ۔ ولیِ کامل کی زوجہ محترمہ کا نام  نامی سیدہ بلقیس بی بی ہے۔ یہ بھی بے حد خوش اخلاق اور ملنسار ہیں۔ حاجی صاحب کی علالت کے دوران اس خوش بخت سید زادی نے  اپنے خداۓ مجازی  کی   خوب خوب خدمت کی ہے_دعاء ہے خدا بی بی صاحبہ کی خدمات اپنے حضور قبول فرماۓ اور سیدہ بلقیس بی بی کا سایہ اپنی اولاد اور ہم سب پر تا دیر قائم و دائم رکھے اَمین

    بندرگاہ پر جہاز لنگر انداز

حاجی صاحب جب ارکان حج مکمل کر نے کے بعد بذریعہ بحری جہاز بھارت کی بندرگاہ ممبئ کی جانب واپس لوٹے، تو ان کے دماغ میں یہی خیال دوڑے جارہا تھا کہ ممبئ بندرگاہ پر جب بحری جہاز لنگر انداز ہو جائے گا تب ”میں اتر کر کیسے اگلی منازل طے کروں گا؟“  وہ فرماتے ہیں ”کیوں کہ میری جیب میں کرایہ ہے نہ کرایے کی ذات۔ البتہ حاجی صاحب فرماتے ہیں ”آخر کار ہمارا بحری جہاز بھارت کے فلم انڈیسٹریل شہر کی بندرگاہ پر پہنچ کر لنگر انداز ہوا تو تمام حجاجِ کرام باہر نکلے اور ایک دوسرے کے ساتھ مصافہ کرنے اور گلے ملنے کے بعد سلامِ ودع کہتے ہوئے اپنی اپنی منزلِ مقصود کی جانب بخیر و عافیت بڑھ گئے۔ اب میں اسی سوچ بچار میں پڑا تھا کہ کرایہ کہاں سے میّسر ہو اور میں اپنی اگلی منزل کی طرف بڑھ سکوں۔ تبھی کہتے ہیں ، ” خدا کا ایک نیک شخص  میرے پاس آیا اور میرے پریشان ہونے کی وجہ دریافت کی۔تب میں نے اس نیک سیرت و خوش شکل آدمی کو اپنے پریشان ہونے کی وجہ سنائی۔ تب اس شخص نے مجھ سے کہا آپ فکر نہ کریں سب خیر ہو گی پھر اس نے مجھ سے نعتِ پاک سننے کی فرمائیش کی جسے میں نے فوراً ہی خوشی خوشی پورا کیا۔ نعت پاک سماعت کرنے کے بعد اس نیک شخص نے مجھے واپسی کا سفر خرچہ دیا تو میں گھر پنچا۔ 

 پندرواں/قراٰن خوانی 

حاجی صاحب کے وصال کے پندرہ روز بعد  "فاتحہ خوانی“  کا شاندار احتمام ،اُن کے گھر ڈنہ سیّداں کے مقام پر  کیا گیا۔اس احتمامِ فاتحہ خوانی میں بڑی تعداد میں علماء ،فضلاء، حفّاظ اور قراء نے تشریف فرما کر ثواب دارین سے اپنے اپنے  کشکول بھرے۔ اس دعایہ محفل میں اچھی خاصی تعداد میں حاجی صاحب کے دیوانوں،مستانوں اور چاہنے والوں نے حصہ لیا اور اپنے ہدیاتِ معظمات کو حاجی صاحب مغفور کے حق میں عقدت کے ساتھ ملت فرمایا۔ صاحبزادہ سید رفاقت حسین شاہ اور اسرار حسین شاہ (حاجی صاحب کے داماد) نے تمام عقیدت مندوں کا شکریہ ادا کیا۔ اختتامی دعاء الحاج سیّد یٰسین حسین شاہ اور سید نذر حسین شاہ مدظلہ برکاتہما کی زیرِ صدارت روزہ افطاری سے چند منٹ قبل کی گئی۔

 

پیرِنہاں کی تقریبِ چہلم 

 

الحاج سیدّ عبدالخالق حسین شاہ کی تقریبِ چہلم  کا پروگرام بروز جمعرات، شوال ١٦\ بتاریخ  25 اپریل 2024 کو اُن کے غریب مگر بندہ نواز آستانے پر منعقد ہوا۔اس تقریبِ چہلم میں  بڑی تعداد میں علماء،حفاظ،قراء اور ادبا نے شرکت کی۔اس  تقریب کی صدارت ، سیّد الحاج یٰسین حسین شاہ کر رہے تھے۔ مہمانِ ذی مرتبت کے عہدہ پر جانی پہچانی    شخصیت ، حضرت سیّد سرفراز حسین شاہ مدظلہ  برکاتہ  فائز رہے۔ دعاۓ اختتامیہ بھی آپ ہی نے فرمائی۔ اس تقریب میں حافظ نصیر احمد رضوی صاحب مہمانِ ذی وقار کے عہدے پر فائز رہے۔جبکہ ڈاکٹر نذیر حسین انسؔ مہمانِ خصوصی کے اہم مقام پر فائز رہے۔ متذکرہ تقریب میں نشستِ اوّل میں کلام اللہ شریف کی تلاوت کی گئی اور نشستِ دوم میں ختمِ انبیاء  کے سلسلے میں کلمہء طیبہ کی تسبیح کی گئی۔ الحاج سیّد عبدلخالق حسین شاہ مرحوم کے اکلوتے  صاحبزادے، محترم سیّد رفاقت حسین شاہ نے تمام شرکاء کی آمدِ بسعادت پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ یاد رہے کہ اسی تقریب کے اختتام پر عوام نے سید رفاقت حسین شاہ کو امام و خطیب اور نکاح خواں قرار دیا۔ یہ اعلان بااتفاقِ راۓ سے ہوا۔  



  • کالم نویس و تذکرہ نگار: رمیز راجہ
  • اینکر : نیشنل ٹی وی نیوز
  • ربطہ: 9149735616
Email: rameezrajasustani93@gmail.com

Sunday, May 22, 2022

Biography of Madam Tazim Akhter

 

Sitting with his Life-Partner, Lecturer, Qadeer Ahmed Khan at his Residence

Dervaishen 
Madam Tazim Akhter


کہا جاتا ہے کہ کوئی شخص چاہے کتنے ہی مہنگے مہنگے لباس کیوں نہ پہن لے، کتنی ہی مہنگی اور قیمتی جوتیاں خرید کر پیروں میں لگا لے، اچّھے اور مہنگے لباس سے اُس کے جسم کی زینت تو ہو سکتی ہے، مگر ضروری نہیں کو وہ شخص اپنے لباس کی طرح اپنا اخلاق بھی مہنگا اور عمدہ رکھتا ہو۔


ٹھیک اسی طرح ایک شخص اگر مال و ثروت کے باوجود بھی سادہ اور درویشوں والے لباس پہنتا ہے، تو اس سے قطعی یہ راۓ قائم نہیں کر لینی چاہیے کہ فلاں صاحب یا صاحبہ کا اخلاق بھی سستا ہے۔

Teaching the students Madam Tazim Akhter
During Covid-19


میں بات کر رہا ہوں اُس درویش شہزادی کی جس کا نام اس کے والدین نے تعظیم اختر رکھا تھا۔ اسم شناسوں کے مطابق ”تعظیم“ کا مطلب ”عزّت“ ہے اور ”اختر“ کا مطلب ”ستارہ“ ہے۔ ”تعظیم“ عربی زبان کا لفظ ہے جب کہ” اختر“ فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اب تعظیم اختر کا مطلب ہوا عزّت دار ستارہ، ۔


یہ عزّت دار ستارہ یعنی میڈم تعظیم اختر مرحومہ  پنچایت پھٹان تیر میں ۔۔۔۔۔پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے ابّا کا نام  محمد رشید خان اور ماں کا نام  فکیرہ بی بی تھا۔  میڈم تعظیم اختر کے علاوہ تین بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ بھائی کا نام رسالت خان ہے۔ رسالت خان پیشے سے استاد ہیں۔میڈم تعظیم   کی بہنوں کے نام اس طرح ہیں: ۔۔۔

نصرین اختر، شنید اختر اور امتیاز اختر

میڈم تعظیم اختر اپنے باپ کی شہزادی،ماں کی لاڈلی، بھائی، بہنوں کی پَری، بچپن سے ہی بے حد سادہ طبعیت کی مالکہ تھی۔جوانی میں بھی میڈم صاحبہ کی سادگی عروج پر رہی اور جب پڑھ لکھ کر گورمنٹ ملازمہ بنی تو سادگی میں اور کمال آ گیا۔ میڈم صاحبہ مرحومہ پیشے سے استانی تھیں۔ اور استانی بھی قابل ترین۔ 


میڈم تعظیم اختر کی شادی قدیر احمد خان سے سن۔۔1998 میں ہوئی تھی۔ قدیر احمد خان کے والد کا نامِ گرامی الحاج عبدالرحمٰن خان ہے۔ جب کہ قدیر احمد خان کی والدہ ماجدہ مرحومہ کا اسم مبارک راشیدہ بی تھا۔ قدیر احمد خان بھی پیشے سے ایک استاد ہیں اور ڈائٹ پونچھ میں تعینات ہیں۔ یہاں میں ایک بات اپنی سمجھ اور تجزیے سے کہہ دیتا ہوں کہ لیکچرر قدیر احمد خان طبعیت کے سخت ہیں۔ مگر میں یہ بھی واضح کر دوں کہ لیکچرر صاحب دل کے بڑے نرم ہیں۔


بات میڈم تعظیم اختر کی ہو رہی ہے۔ میڈم بے حد مہمان نواز تھی۔ میڈم صاحبہ کے گھر سے مانگنے والا کبھی خالی نہیں جاتا تھا۔ میڈم صاحبہ ہر ایک سے پیار کرتی اور سب کی عزّت کرتی تھی۔ میڈم صاحبہ کے چھے بچے ہیں۔ تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ بڑے بیٹے کا نام عاقب خان ہے۔ عاقب خان سے چھوٹی شبینہ کوثر ہے۔عاقب خان سادہ طبعیت کا مالک ہے جب کہ شبینہ کوثر سخت طبعیت رکھتی ہے اور بے حد چنچل بھی ہے۔ شبینہ کوثر سے چھوٹا عادل خان عرف شمعی ہے۔ شمعی بھی ذہین ترین لڑکا ہے۔ شمعی سے چھوٹی  رائیس شبنم عرف   شافعی  ہے۔ یہ بڑی خاموش طبعیت بچی ہے۔ شافعی سے چھوٹی فہمیدہ کوثر ہے۔ یہ بھی بڑی فہم دادہ بچی ہے۔ فہمیدہ سے چھوٹا ثاقب خان عرف بابی ہے۔ ابھی یہ چھوٹا شہزادہ ہے۔ بڑا ضدی ہے۔ ماں بابی سے بے حد پیار کرتی تھی۔ 


منگل وار کی شام کو میڈم تعظیم صاحبہ اپنے پیارے اور ہر دلعزیز خاوند کو شام کا کھانا دے کر خود غسل فرمانے کی غرض سے غسل خانہ میں داخل ہوئیں،وہیں پر ہی میڈم صاحبہ کو برین اسٹروک ہوا۔ وہاں سے میڈم صاحبہ کو مینڈھر اسپتال میں لے جایا گیا،وہاں سے میڈیکل کالج راجوری میں لے جایا گیا۔ وہاں سے جموں جی ایم سی جموں اور جموں سے پی جی کالج چندی گڑھ لے جایا گیا۔


ڈاکٹروں کے مشورے پر عمل کرتے ہوۓ ساتھ گئے میڈم جی کے ورثہ نے میڈم صاحبہ کو ان کے گاؤں سے گما کر واپس چیک بنولہ گیار نالی ان کے گھر لایا ۔ جمعرات ساڑھے نو بجے میڈم جی نے آخری سانس لیا اور ہم سب کو روتا بلکتا پیچھے چھوڑ کر خود جا کر قبرستان کو آباد کر لیا۔ بڑی اور ریکارڈ تعداد میں لوگوں نے میڈم جی کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ میڈم صاحبہ کا نمازِ جنازہ ولیِ نہاں الحاج حضرت خالق حسین شاہ متقی نے ادا کروایا۔ دعا ہے کہ اللہ نبیؐ کی شان کے صدقے سے مرحومہ کی مغفرت کرے اَمین!

 

رمیز راجہ



Biography of Madam Tazim Akhter


It is said that no matter how many expensive clothes a person wears, no matter how many expensive shoes he/she buys and puts on his/her feet, good and expensive clothes can adorn his/her body, but not necessarily he/she should keep his/her morals as expensive and good as his/her clothes.


In the same way, if a person wears simple and Dervaish clothes in spite of his wealth, then he/she should not form the opinion that the morals of such man or woman are also cheap.


I am talking about the Dervaish Princess whose name was given Tazeem Akhter by her parents. According to name, "Tazeem" means "honor" and "Akhter" means "Star". "Tazim" is an Arabic word while "Akhter" is a Persian word. Now Tazeem Akhter means the 'Honorable Star.'


This Honorable Star i.e. Madam Tazim Akhter was born in 15 / 01/ 1997 the Panchayat Phatan Teer. His father's name was Rashid Khan and Rashid Khan's father name was Amir Ali Janjua and his mother's name was Rafiqa  Bi. Apart from Madam Tazim Akhter, she has three sisters and one brother. The brother's name is Risalat Khan. Risalat Khan is a teacher by profession. The names of Madam Tazim's sisters are as follows:

Nasreen Akhter, Shaneed Akhter and Imtiaz Akhter


Madam Tazeem Akhtar was her father's princess, mother's darling, brother, sister's fairy, possessor of very simple nature from her childhood. And perfection has come in her adulthood. Madam Sahiba was a teacher by profession. And the teacher is also the most capable. She was appointed in 1997.


Madam Tazim Akhter was married with Qadeer Ahmed Khan in the year 1997. Qadeer Ahmed Khan's father's name is Alhaj Abdul Rehman Khan. While Qadeer Ahmed Khan's mother name was Rashida Bibi Qadeer Ahmed Khan is also a teacher by profession and is posted in Diet Poonch. Here I would like to say one thing from my understanding and analysis that Lecturer Qadeer Ahmed Khan is strict in nature. But let me also make it clear that the lecturer Sahib is very gentle at heart.


It is about Madam Tazim Akhter. Madam was very hospitable. The beggar never left Madam's house empty. Madam Sahibah loved and respected everyone. Madam Sahibah has six children. She has three sons and three daughters. The eldest son's name is Aqib Khan. Shabina Kausar is younger than Aqib Khan. Aqib Khan has a simple temperament while Shabina Kouser has a strict temperament and is also extremely playful. Adil Khan alias Shammi is younger than Shabina Kouser. Shami is also the most intelligent boy. Rayies Shabnam alias Shafi'i is smaller than Shammi. This is a very quiet girl. Fehmida Kouser is younger than Shafi. She is also a very intelligent girl. Saqib Khan alias Babby is younger than Fehmida. Right now it's the little prince. Is very stubborn Mom loved Bobby so much.


On Tuesday evening, Madam Tazim Sahiba entered the bathroom with the intention of bathing at which point Madam Sahiba suffered a massive Brain Stroke. From there Madam Sahiba was taken to Mandher Hospital, from there to Medical College Rajouri. From there she was taken to the GMC Jammu and from Jammu to the PG College Chandigarh.


Following the advice of the doctors, Madam Sahiba was taken back from her village and brought her back to her house at Chak Banola . At 9:30 on Thursday, Madam Sahibah took her last breath and left us all crying and went to settle the graveyard on her own. A large and record number of people attended Madam Sahibah's funeral prayers. Madam Sahib's funeral prayer was offered by a Hidden Wali, Alhaj Hazrat Khaliq Hussain Shah Muttaqi. May Allah forgive her with the charity of the glory of the Prophet. Ameen!


 

Qari Rameez Raja
Sustani

Writers 

Rameez Raja

Editor: National TV News

Sunday, April 4, 2021

Zirat of Quttubudin Khana-Badush



 Segment Humane!

M S Nazki 

The radio that would be heard no more since the listener fell silent after he got to the age of 91 years in Harni, Mendhar!

This is a story of an ordinary man who never liked the materialistic life, his only companion was his wife because they never had any children!

* Thus the animals in forms of goats, sheep and dogs which they tamed became their only close ones! Not yet another nomad but a special of his and of her own kind!

* No one knew as to what mettle he was made up of, but he was a strong Gujjar who in his younger days wondered about along with his wife and flock as the wandering nomads do.

* But after 91 years of age he fell silent as everyone of has to, leaving his wife at 63 years of age desolate and silent.

 * The place is in the shadows of pines, somber, calm and cool. It always was still till the man Quttubuddin S/o Sain Miran, R/o Bandia Chechian Poonch did not switch on his radio. The people of Harni always said that this man does not seem to get old. But just four days back he vanished to nowhere leaving little or no legacy behind! That’s what life of a nomads is. Agree or disagree that is the truth.

In no way I/m writing a tragedy, ode or an elegy or some deft tear jerking prose. It’s just something about the people who keep moving about in the mountains and hills rearing up sheep and goats (male ones) so that our stomachs pining in for flesh are fulfilled. This man from Chechian (Poonch) too was in the same segment of nomadic professionals. No wrong or harm but when he definitely decided to settle down in Harni in a small flat space he still did not know why he loved the place because till death he never moved out elsewhere. Accompanying him was his wife Lal Jaan. Trust me the nomads too have a fascinating love story which was spiritual in nature till one of them departed. It is always is the story of every man/woman or preferably I would put it across as history of mankind!

No one in Harni would have even noticed the death because everything was silent four days back. The sheep goats were not bleating or scowling and the famous the (the loveable but dangerous dogs of his) who were the guards of a tent house were not barking. Neither was the radio buzzing. For years together Lal Jan and Sain (as Qutubuddin was called as) had a routine well known to the people. The dogs as always hungry used to wake up and the flock began bleating to release them off the shackles of their canine friends because without them they had no protection to graze around although they were born free and of course Sain switching on his favorite radio full pitch. What he heard no one knew but some Gojri programs on what we call as Radio Kashmir Jammu, All India Radio  he always tuned into. In Covid-19 Times he used to be over expressive, wanted to speak his heart but never got a chance. But with men like Pradeep Khanna in Poonch his wife may well! She has plenty to share because she does not have a child. But before that, I have an incident to quote:

Lal Jan knew that Quttubddin had breasted the tape since age cannot be limitless as far humans go even if they do not ever fall sick in their entire life. Her husband had never. She also knew that they did not have the paper money, so necessary to survive. They had grown up on the flock of animals they had reared up and sold. But now they had given up on that also because Sain had gone spiritual. Lal Jan distinctly told me, ‘why carry them as babies, rear them and then sell them for human consumption’? I was befuddled and then I retraced my steps back but when I heard the story going around it was a shocker for me, ‘ Sain had no relatives of his but Lal Jaan has. Her relatives told her to sell her stock off so that money for sustenance can be made and deposited’. She refused and responded, ‘I have nothing of my own, what I had has gone, buried under the soil, the animals are my children and I will rear many more as they arrive and two of them (lambs) are just too small’. This moved me no end but the about dogs left me crest fallen because Lal Jaan had this to say, ‘he used to go once in a week to Mendhar to collect chicken internals for the dogs. The shop owners would give it free of cost. He would come back, spend most part of the evening cleaning up and then boiling them up to serve his pets. They loved it. But it’s me who would have to do it now and that I will do ’! That is why they say the dogs brought by Nomads are favorites with anyone perhaps a step ahead of the pedigreed ones or maybe they are of a different type altogether!

But one thing I realized in Mendhar. The people love each other. Thousands have already the visited the tent sight where this family of a very different kind lived for so many years and is still. The people always did help the desolate couple and now also after the death of Quttubudin they have organized a massive food distribution point (Langar). People from all over the places are coming in and paying tributes not because he was great but because he was humane. This is exactly what India has preached to the world. For me as I walked away from the silent tent from where the radio used to blare and now only the sounds of silence would be heard. The slim, trim but now bent from the spine (as we all will once in future) Sain is destined to be seen no more. He did teach brotherhood of man for sure and that is why I wrote this story of yet another unknown nomad! But I feel sorry for 63 year old Lal Jaan. No doubt people will help her out but if the administration, even has a peep into her whole story and consider her worth helping, it would be a great super turner for those who consider that the Government does not know the ground realities and does! May be the tent gets converted into an institution of love between all the living beings on planet earth! Trust me it can be done! And mind you it is being done elsewhere in the Nation!

Friday, April 2, 2021

Tehsil Mendhar


 

Mendhar  Valley of Poonch
M S NAZKI

Mendhar is also
known as 'The
green valley of Poonch'. Presently, Mendhar is a tehsil of Poonch district located at the southern side of the district. The Tehsil is bounded by Shahstar range of mountains in the northern side; Bhimber Gali top in the east; Khandhar range of mountains in the southern side, while Poonch river divides the tehsil from the western side.
Before independence, Mendhar was the 4th tehsil of erstwhile Poonch principality with its headquarter at Dharmsal. This tehsil had an of 470 square miles besides 90 square miles area of Thakiala Prava. After partition the whole of Thakiala area came under Pakistan. In 1972 Mendhar tehsil was divided into two tehsils on administrative grounds namely tehsil Mendhar and tehsil Surankote. Presently, tehsil Mendhar is located exactly on the border. 14 villages of the tehsil are touching the LOC. The LOC is spread over 43 kilometers from Tarkundi in the east to Mandla in the south.
Tehsil Mendhar comprises of 57 inhabited villages and 64 panchayats. As per census 2001, the total population of Mendhar was 1.13 lacs, while the projected population of 2010 is 1.77 lacs. Out of the total population about 4500 belongs to Hindu and Sikh communities residing in Mendhar town, Bhera, Harni, Mankote, Sagra, Ari, Dharana, Gohlad etc. On the other hand, the villages located on the slopes of mountains and upper reaches are dominated by Gujjar and Bakerwal community. The population of Mendhar tehsil is considered more prosperous than the other areas of district Poonch. Mendhar is also known for the ancient Ramkund Temple of 8th century AD constructed by Raja Lalita Ditya of Kashmir, Ziarat Hazrat Pir Chhotey Shah Sakhi Maidan, Takiya Sharief of Hazrat Ghulam Shah Badshah, Kalaban and Ziarat Sharief Chhajla. Mendhar is also known for an Old Bowali of Harni where around 1680 AD, Lachamdass alias Banda Beragi of Rajouri had killed a female deer. Later on, he became the disciple of Tenth Guru Gobind Singh and fought a number of battles in Punjab.
The history of Mendhar travels with the Indian civilization. As per a legend, Pandvas had visited Mendhar during their exile period. They had also constructed a very high tower at Mendhar near Sakhi Maidan. It is said that Kunti, the mother of Pandvas desired that she wanted to see her ancestral city Inderprast. Immediately, Bhima constructed so high a tower at Sakhi Maidan Mendhar, that Kunti could see her native town. There are a number of bowalies, ruins of Pandavas time in the tehsil. The legend goes that these monuments were constructed by the Pandavas.
As per the "History of India" by R.K Mukherji and "2500 years of Budhism" by P.V Bhapat one Greek Governor Manindra (161 BC-130 BC) was ruling Punjab. In those days Mendhar area was a part of his kingdom. Manindra had revolted against Greeks and declared himself as an independent ruler. Since the whole population of his kingdom was the believer of Budhism at that time, therefore, Manindra was also interested in Budhist philosophy. He had approached many priests and interacted with them about Budhism. But no monk was in a position to convince him in discussion. It was by chance he met a Budhist monk namely Naga Sinha who replied all the questions raised by Manindra about Budhism. At the end of this discussion Manindara was filled with spiritual joy and became a disciple of Naga Sinha.
P.V Bapat writes that Manindra had build a monastery in memory of his discussion with Naga Sinha and named it as Manindra Vihara. Mr. A Koul in his book 'Budhism in Kashmir' writes that the discussion between Naga Sinha and Manindra was held in the southern side of Kashmir valley about 20 yojans from the valley. The famous book on Budhism "Malinda Panaha" written by King Manindra refers to his intimate knowledge of Kashmir and its surrounding areas. Jyotisher Pathic, a renowned writer of Jammu writes in one of his articles published in "Sheraza" Urdu that the place where the discussion between Naga Sinha and Manindra was held is present Mendhar valley of Poonch. There is an old structure in Mendhar at Sakhi Maidan. The architecture of this structure is Indo Greek in style. It clearly indicates that in the ancient time this was a monastery. Presently, this whole valley is known as Mendhar. The local legend goes that the name of Mendhar is after the name of a King. These facts reveal that this King was Manindra, who had constructed a Manindra Vihara at present Sakhi Maidan where the discussions between Manindra and Naga Sinha had taken place. It appears that this place was initially named as Maninder Vihara. Later on with the passage of time it became Manindra which changed to Mendhar.
In 850 AD, when Poonch principality was established by Nara, Mendhar was a part of this principality. This principality remained intact upto 1452 AD when Sultan Zain-ul-Abdin captured the outer hills of Pir Panchal region and established a new outer hill state Poonch-Nowshera under the name of Bhaya Desa Vinah. Mendhar also became a part of this new principality. In 1596 AD a newly converted Muslim Saraj-ud-Din Rathore became the Raja of Poonch principality on the order of Emperor Akbar. Mendhar area came under his control. From 1596 to 1819 AD Poonch remained the principality of Rathore Rajas and Sangu Gujjar Rajas and Mendhar was the part of this principality. In 1852 AD Maharaja Gulab Singh of J&K nominated his nephew Mian Moti Singh, the Raja of Poonch. Moti Singh came to Poonch and established a new principality. Mendhar valley became a part of this principality along with Thakiala Prava area of Kotli. C.E Bats writes in his book 'The Gazetteer of Kashmir' that in 1872 AD, Mendhar was a township and known as Dharamsal with hundred houses on the right bank of Mendhri stream having mixed population. In 1905 AD Capitan R.E.A Hamilton completed the first settlement of Poonch. On administrative grounds, he divided the principality into four tehsils and Mendhar became the largest tehsil in area of the principality. This tehsil also remained a large grain producer of Poonch upto 1947.
During the happening of 30th July 1931 AD in Kashmir, the uprising also started in Poonch area especially in Mendhar tehsil. On 2nd January 1932, the people of Thakiala Prava of Mendhar revolted against the state government and marched towards Poonch. The Raja Jagat Dev Singh of Poonch with the help of Muslim Suddans of tehsil Plandri succeeded in subsiding the revolt but the movement of Kashmir had given birth to a strong political leadership in Mendhar headed by Sardar Fateh Mohd Khan Karelvi. In 1932 AD on the recommendations of Glancy Commission 75 members Legislative Assembly had come into existence under the name of Praja Sabha. Three seats were alloted to Poonch principality. Sardar Fateh Mohd Khan Karelvi of Mendhar was elected MLA from Haveli-Mendhar constituency. He was again elected to Praja Sahba in 1937. During the turmoil of 1947 Mendhar tehsil was captured by the rebel forces and Pakistani Army under the command of Lieutenant Colonel Rehmatulla, a deserter of state forces. About two thousand Hindu and Sikh had become hostage to rebel forces. In this crucial time, Sardar Fateh Mohd Khan Karelvi played a vital role and protected hundreds of Hindu families and helped them to mgrate to Indian side. In 1948 AD, operation link up was started by India forces from Rajouri towards Poonch under the command of Brigadier Yadav Nath Singh. The Indian forces after capturing an important hill top Pir Bardeshwar on 14th October and Pir Kaleva on 26th October in Rajouri area moved towards Mendhar via Manjakote. Bhimber Gali was taken over on 8th November 1948. At that time Mendhar town was the centre of rebel forces and Pakistan army. But Indian forces continued their advance via Mendhar towards Poonch. On 20th November Pir Topa an important feature in Mendhar was captured. On 23rd NovemberIndian forces moved via Jhakha Gali, stormed Mendhar town and captured it. In the next few days all the important hill tops of Khandar range from Balakote upto to Daruchian were taken and Mendhar tehsil was liberated. Presently, the green valley, Mendhar of district Poonch is leading the other areas in over all developmental scenario and political setup.

The writer is a working journalist can be mailed at msnazki123@gmail.com
 

Hazrat Pir Baba Haider Ali Shah


 Thousands of people paid their obeisance at the shrine of Peer Baba Haider Shah Mast Kalandar near the Line of Control in Mendhar during three day Urs Mela which concluded today.

This three day Urs Mela at the shrine of  Peer Baba is organized every year  at village Chhajla in Mendhar Sub Division of district Poonch. The shrine is located just closer to the LoC and similar Mela is organised by the people living on that side of the LoC in Pak occupied Kashmir.  The people from Poonch and Rajouri besides other adjoining districts visit the shrine during Urs. The Administration had made elaborate arrangements for the smooth conduct of religious program at the shrine.
Some guests from PoK, who had come here to meet their relatives via Chakkan-da-Bagh also paid visit to the shrine and told that on that side of the LoC also massive rush of devotees is witnessed during Urs. They said people on that side also have great faith on the Shrine of Peer Baba Shah Mast Kalandar and said that such shrines at borders give message of peace, brotherhood  and love to the people on both the sides.

Sain Illahi Baksh

Ziarat Sain Illahi Bakash Sahib

The famous Ziarat of Sain Illahi Bakhsh Sahib is located in village Battalkote in Mandi block of Poonch district. This place is 37 kms on the north of Poonch town and about 4 kms. from Loran. Battalkote is the last inhabited but most beautiful and attractive village and is located in between the southern hills of Peer Panchal range and confluence of streams Nain Sukh and Nandishool. The shrine is located in the heart of village on the sloppy land and grassy ridge. This sacred place is surrounded by snow capped peaks, thick belt of forests, beautiful maize fields and crystal clear streams. The scenic beauty and geography of this place resembles with Gulmarg of Kashmir. A great Soofi Saint, Sain Illahi Bakhsh Sahib, had selected this place keeping in view its natural beauty. The God-fearing Sain Illahi Bakhsh Sahib came to Battalkote around 1948 AD and passed rest of his life in this very place till his death. He was a soofi saint, preacher of brotherhood and worked for humanity. He spread the message of love, affection and brotherhood of Soofi-Ism among the public and inspired not only muslims but Hindus and Sikhs also. He was true soofi, remained unmarried and passed his life as a Darvesh. Sain Illahi Bakhsh Sahib died on 16th of May,1976. Four days before his death, he told his devotees that his last time has come. He identified the place for his grave and asked the devotees to keep his body open for three days for public before burial. At present, the Urs of Sain Sahib is organised every year in the month of May. Thousands of people visit the shrine from Mandi, Poonch and outside state also irrespective of caste, creed and participate in the function. With active participation of non-muslims in the Urs, the programme has become the symbol of composite cultural heritage. Thousands of Hindus and Sikhs apart from Muslims participate in the function and this colourful programme becomes the identity of brotherhood, religious tolerance and love and affection for other communities.

 

Hisab's Shrine

 

Shrine Of Hisab

___________________

This shrine is situated at Sub Village of Qasba. This Sub Village comes under the Frontier Tehsil Mendhar. Its District is Poonch.  Sometimes ago,the Valley of Poonch was being declared as a "Mini Kashmir" or Chota Kashmir by Mughalian Kings. Or Mughal Era.

The District Poonch comes under the Union Territory of Jammu and Kashmir (UT_J&K) right now.  Sub Village Qasba's  Panchayat is Takia Kalaban. This Panchayat has recently been come into the existence in the year of 2019,by the great efforts of Advocate Maroof Khan.  Advocate Maroof Khan is a senior leader of Peoples Democratic Party (PDP). He is of course a scoping personality. 


What People Say About Hisab

________________________________

Locals of Sub Village, Qasba and adjoing Sub Village of Kote Qasba  [The locals of Mohra,Kote and Tarakote ] say that they have already been given details about the Hisab's Pir by their Parents as well as Grand Parents that is in this way:

There was a Pir who  living at this Place. Some other persons of this village informed to writer, Qari Rameez Raja Sustani that sometime the Pir of Hisab was seen and after then he went disappear. No one knew that where he went.

Locals also informed that they have listened  to their Parents and Grand Parents that said Pir Sahib had come from "Pakistan" Maltan and stayed for sometime here. Some said that Pir Sahib often Prayed sitting in the Cave during the Rainy Season and in the Sun, he was used to call his Allah and Rasulallah.  But he soonly been disappeared from the scene.


About Pir's Name

___________________

Some Educated people of the said area described that Pir Name was Namdar Ali Shah. Some have such opinion that his name was Nughal Ali Shah.

One old person, Molvi Sadiq Manhas said that it is true that Pir Name was Namdar Ali Shah. Chacha Kareem Baksh (Kareema) also told that Pir's Name was Namdar Ali Shah.

Some educated persons believed that the Mohalla Nagal Ban or Place Name "Nagal" is related with the name of  'Nughal' and some said that Pir's name was Qusab Shah,so this reason , the name of Qasba has come into the existence. Or strike to the name of Qasba.


His Death Place

___________________

In the search, about his Death Place there is no sign on the place of his sitting place Hisab. No any sign of Pir's grave is there. But some old souls of the said Area, told that his death place was happened at Hisab but it can not be seen right now. 

No sign of his grave can be found anywhere  at Hisab 

This Article Is Written By Qari Rameez Raja Sustani