Tuesday, March 26, 2024

ولیِ نہاں حضرت پیر سیّد عبدلخالق حسین شاہ علیہ رحمہ



ولیِ نہاں،حضرت پیر سید الحاج عبدلخالق حسین شاہ علیہ رحمہ

 

آئیے ہم سب سے پہلے  یہ سمجھتے ہیں کہ ولیِ نہاں کسے کہا جا سکتا ہے۔ جی ہاں! ولی  اللہ کا مطلب ہے اللہ کا دوست۔یہاں پر بھی ولی سے مراد ولی اللہ ہی ہے۔رہی بات ولیِ” نہاں “ کی تو لفظ نہاں فارسی کے مصدر ”نہادن“ کا حاصلِ مصدر ہے۔ اس کا مطلب یوں  ہوا کہ ایک ایسا ولی جو عام لوگوں کی   نگاہوں میں ایک عام سا شخص معلوم ہو، یا معمولی نظر  آئے مگر حقیقت  کچھ اور  ہو   ۔وہ شخص خدا کا کامل ولی ہو مگر ہر آدمی اس کی برگزیدیت  اور ولایت سے واقف  نہ ہو یا ایسے  نیک اور پہنچے ہوۓ خدا کے ولی کی شان سمجھ نہ سکے یا پھر  ایک عام آدمی ایسے ولی اللہ کا  ظرفِ ادراک سمجھنے سے قاصر المقصور رہ جاۓ۔ جیسا کہ سطورِ اولیٰ میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ ولی کا مطلب دوست ہے۔ یعنی اللہ عزوجل کا دوست۔جہاں تک نہاں“  لفظ کا تعلق  ہے یا بات ہے تو اس سے   مراد پوشیدہ خدا کا برگزیدہ شخص،  جس کی دعا شرف قبولیت رکھتی ہو  لفظ نہاں کا مطلب  مخفی یا پوشیدہ  ہوتا ہے۔ایسا ہی ایک خدا کا نیک بندہ ، سرزمینِ مینڈھر کے گاؤں ،موجودہ پنچایت عواں کالابن کے محلہ سیدّاں  ڈنہ شریف کے مقام پر برادریِ سعاداتِ پاک  میں اپنی حستی رکھتا تھا ۔ وہ  دین  کا علمبردار تھا۔ عاشقِ رسولؐ تھا۔ میلادِ پاک کا  قائل المقول تھا ۔ آدمی نواز تھا۔ انساں دوست اور سیدِ الرّاست  تھا۔بظاہر خود غریب تھا مگر غریب نواز تھا۔  اس خدا کے ولیِ کامل  کو عوامِ پیرپنجال حاجی صاحب“ کے نہایت ہی نیک اور برحق لقب سے پکارتے تھے۔  

  

ولی نہاں  کا اسمِ مبارک

 

حضرت پیر سیّد عبدلخالق حسین شاہ ،اس ولیِ نہاں  کا اسمِ مبارک تھا۔ چوں کہ خدا کے اس برگزیدہ پیارے  نے سعادتِ حج حاصل کر رکھی تھی تو لوگ  خدا کے اس نیک بندے کو  اسی نسبت سے حاجی صاحب“ کے لقب سے  نہایت ہی عزّت و احترام  کے ساتھ  پکارا کرتے تھے۔ علاقہ کا ہرجھوٹا بڑا، مرد ،عورت آپ کا حد درجہ احترام کرتا تھا۔ خدا کا یہ  ولی بھی ہر کسی سے نظرِ  نافیع  اور  دستِ شفقت سے پیش آ تا تھا۔  جس طرف کو آپ نکل پڑتے یا چل دیتے تو  لوگ آپ کو قافلوں کی صورت میں مقامِ مقصود تک لے جاتے۔ خدا کے اس ولیِ کامل کے اوصاف اس قدر اچھے تھے کہ  ہر کوئی آپ کے انہی اوصافِ حسنہ کی وجہ سے آپ کا مکمل طور سے دیوانہ اور گرویدہ  ہو جاتا تھا۔ 

 

ولیِ ںنہاں کی ولادتِ پاک 

 

خدا کے اس ولیِ کامل یعنی حضرت پیر سید الحاج عبدلخالق حسین شاہ علیہ رحمہ کی پیدائش تحصیل مینڈھر کی پنچایت عواں کالابن کے محلہ سیّداں میں سن 1947 کو ہوئی تھی۔ آپ تمام بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے۔ آپ کے برادرِ اکبر، حضرت پیر سید الحاج یٰسین حسین شاہ مدظلہ برکاتہ فرماتے ہیں، ” سن 1947 میں جب ملکِ ہندوستان کا بٹوارہ ہوا تو ریاست جموں و کشمیر جسے موجودہ برسرِاقتدار جماعت یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی نے 05 اگست 2019 کو  ریاست کا درجہ ختم  کر کے مرکز کے  زیرِ انتظام علاقہ یعنی دو یونین ٹریٹریز میں بدل دیا ہے ، میں  بٹوارے کی وجہ سے حالات بے حد غیر موافق اور غیر مساعد ہو چکے تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے سابق ریاست جموں و کشمیر کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ میں تبدیل کیا تو ایک انوکھا ریکارڈ بھی قائم ہوا۔ وہ یہ تھا کہ تاریخ میں ایسا تو ہوتا رہا ہے کہ کسی ملک کی یونین ٹریٹری“ ریاست میں تبدیل ہوتی رہی ہے مگر یہاں اُلٹ ہوا کہ ریاست جموں و کشمیر کو متذکرہ برسرِ اقتدار سیاسی جماعت نے  ریاست کے درجے سے ہٹا کر دو یونین ٹریٹریز میں بدل دیا ہے۔ یعنی ہم جموں و کشمیر کے باسیوں نے اپنی ریاست کو یو۔ٹی۔بنتے دیکھا ہے۔  تو یہاں بات ہو رہی تھی مُلک کے بٹوارے کی۔۔۔ لوگ حالات کو بگڑتا دیکھ کر اپنی جان و مال کی حفاظت اور نیّتِ امان ۔۔بلکہ جان اور اپنے پیاروں  کی سلامتی کی غرض سے محفوظ اور قدرِ امن و آشتی والی جگہوں کا رخ کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ یہ بات سن سنتالیس کی ہے۔ سنتالیس کا ہنگامہ بھی قیامت خیز رہا تھا۔اس ہنگامے میں آباد بستیاں ویرانوں کی نذر ہو گئی تھیں۔ ہنستے بستے گھر شہرِ خاموشاں کی بڑی  ہی دِل سوز و دِل خراش تصویر پیش کر رہے تھے۔ بیوی سے شوہر اور شوہر سے بیوی جدا ہو گئ تھی۔والدین اپنی اولاد سے جدا اور اولاد اپنے والدین سے دور ہو گئی تھی۔ یہاں یہ قمر جلالابادی کے گیت کی ابتدائی لائین مَیں (مصنف راجہؔ) بڑا زخموں سے رنجور اور غموں سے چور ہو کر لکھنے پر مجبور ہوں کہ ؎اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے : کوئی یہاں گِرا کوئی وہاں گِرا۔۔پھر کھینچ گئ درمیان میں ایک ”خون کی لکیر “ ۔۔۔ اسی دوران ہم بھی اپنے کنبہ کے ساتھ ساتھرہ پونچھ جہاں پر ہمارے رشتہ دار موجود ہیں، کی جانب رواں دواں تھے۔ کیوں کہ  یہاں پر یعنی تحصیل مینڈھر کے بالانی علاقوں میں  موجودہ ”طالبان“ کے مُلک افغانستان کے دارالخلافہ کابُل سے آئیے ہوئے قبائیلی مسلّح گرہوں نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا  تھا۔ آپ کو ایک دلخراش وقعہ بتاتا چلوں کہ ہمارا ایک بیل اُن ہی کابل سے آنے والے پٹھانوں کے ایک مسلّح گروہ نے مَکئی کی لڑی یعنی مکی کے گھٹے  کے اندر داخل کر کے مکی کی لڑی کو آگ لگا کر جلا ڈالا تھا۔ اس کے بعد پھر اُس آدھ موئے اور آدھ جلے بیل کو انہوں نے بطور گوشت استعمال کیا اور کاٹ کھایا۔ یہ لوگ اتنے ظالم تھے کہ مستورات کے زیورات کو ان کی ناک اور  ان کے کانوں سے زبردستی نکال کر چھین لیتے تھے۔  جس کی وجہ سے خواتین کے ناک اور کان لہو لہو ہو جاتے تھے۔ تو ہم بھی اسی ہنگامے میں یعنی سن سنتالس میں  کالابن ڈنہ سے کوچ فرما کر براستہ شیندرہ سے ہوتے ہوۓ ”ساتھرہ“ پونچھ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ راستے میں ہمیں دریا کو بھی پار کرنا تھا۔ یہ سچ ہے اور مشہور کہاوت بھی کہ ”مصیبت“ اکیلے نہیں آتی۔ ساتھرہ پونچھ  جانے کے پیچھے یہ وجہ کارفرما تھی کہ یہ جگہ قدرِ محفوظ  تھی ۔ تو جیسے ہی ہم دریا پار کرنے لگے تھے کہ دریا میں بلا کی طغیانی بھی آ ئی ہوئی تھی۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ  حاجی صاحب کی  اس وقت عمر محض دو ما ہ کی تھی اور انہیں ہمارے والدِ ماجد حضرت پیر سیّد نبی شاہ نے جھولنگے یعنی چادر میں باندھ کر  کمر کے ساتھ لگایا ہوا تھا۔ اس وقت حاجی صاحب بیمار بھی تھے۔ اسی دوران ہمارے ساتھ ہی دریا پار کر رہا ایک شخص جو ایک چروَہا تھا، نے ہمارے ابّو جان سے برملا کہہ دیا کہ حضرت جی آپ بُرا نہ مانے  یا غیر نہ جانے تو میں  آپ کو ایک مشورہ دیتا ہوں۔ ہمارے والدِ بزرگوار نے  بڑے  ہی تحمُّل اور نہایت ہی بُردباری سے اس شخص سے جواباً کہا کہ جناب کا مشورہ ء نیک سر آنکھوں پر، دیجیئے مشورہ۔۔تو وہ شخص کہنے لگا کہ حضرت آپ سمجھ دار ہیں اور موجودہ حالات و وقعیات سے بھی خبردار  ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ غدر جاری ہے،ہر   پاسے خون کی نہریں بہہ رہی ہیں،ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے، ہر جانب مارا ماری ہے اور آپ  کا یہ بچہ بیمار بھی ہے ،آپ ایسا کریں کہ اپنے جھولنگے کو ذرا ڈھیلا کر دیں تاکہ یہ بچہ دریا میں  گر جاۓ اور ایک طرح سے دریا بُرد ہو جاۓ گا۔ اس شخص کا یہ نیک مشورہ سن کر ہمارے ابّا جان کی آنکھیں لال ہو گئیں۔جب دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچے تو ہمارے   والد صاحب  نے  اس شخص سے کہا کہ تو نے مجھے بڑا بہترین مشورہ دیا تھا مگر میں نے تیرے اس  بچہ کُش مشورے کو یکدم نذر انداز کر دیا   اور بچے کو صحیح سلامت  دریا کے اس کنارے پر لے آیا ہوں۔ “ حضرت پیر سید الحاج یٰسن حسین شاہ  مزید کہتے ہیں ”بس اب سمجھ آیا یعنی حاجی صاحب کے وصال کے بعد کہ میرے برادرِ  نیک یعنی الحاج عبدلخالق حسین شاہؒ  کی یہ پہلی کرامت تھی۔“  الحاج پیر سید یٰسین حسین شاہ اپنی بات چیت کا سلسلہ جاری و ساری رکھتے ہوۓ  فرماتے ہیں” میرے برادرِ  اصغر یعنی الحاج عبدلخالق حسین شاہؒ اپنے زمانے کے مشہور و معروف پہلوان بھی رہے تھے۔ باہں پکڑنا ، بلوندرو اٹھانا اور کُشتی اور جَپھی کرنا موصوف کا خاص مشغلہ رہتا تھا۔ سخی میدان کے مقام پر سخی شاہ سروَر سرکار کی بھیٹک پر ہر سال میلہ لگتا تھا جو کہ آج بھی لگتا ہے اور ضلع بھر سے پہلوان اس میں شرکت کرتے ہیں اور اپنے ہنر و فن کا مظاہرہ  کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح حاجی صاحب  اللہ مغفرت کرے ،بھی میلے کی زینت بنا کرتے تھے اور وہاں پر منعقدہ تمام کھیلوں میں حصہ لیا کرتے تھے اور اپنا ایک مخصوص مقام رکھتے تھے۔

عصر گوںتریاں مغرب کالابن 

 

مشہور و معروف مناظرِ اسلام اور امام و خطیب جامع مسجد  ڈنہ سیّداں جو دربارِ پیر سیّد مہر علی شاہ سرکا زمانہء مشہور  قلندرِ دوراں  ولی کے زیرِ سایہ   اپنی نمایاں دینی خدمات انجام دیے رہے ہیں، علامہ مولانا حافظ نصیر احمد رضوی نے  ولیِ کامل کی نمازِ جنازہ پر تشریف لاۓ ہوۓ  سیکڑوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوۓ فرمایا ہے ، ” میں نے خود حضرت (پیرسید الحاج عبدلخالق حسین شاہؒ) کی سچی و سُچی زبانِ مبارکہ سے سنا ہے کہ آپ فرماتے ہیں" میں  نے  مجذوب ولی حضرت سائیں بابا  میراں بخش علیہ رحمہ کے حضور حاضر ہونے  کا  قصد کیا تو میں نے اپنے گھر سے کچھ تاخیر سے  دربارِ  گونتراں شریف پونچھ کی طرف پیادہ پا  سفر شروع فرمایا ۔ اس وقت گاڑی کی سواری نایاب تھی اور نہ ہی سڑکیں یا پختہ راستے  ہوا کرتے تھے۔ الغرض میں پیدل ہی  گونتریاں کی طرف چل پڑا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں سائیں بابا میراں بخش علیہ رحمہ  کے حضور گونتریاں پونچھ پہنچا تو اس وقت عصر کی نماز کا وقت تھا اور میں نے نمازِ عصر وہاں پر  ادا کی ۔ پھر بابا جی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اسی دوران ولیِ مجذوب سائیں صاحب نے مجھ سے استفساراً فرمایا اور پوچھنے لگے کہ شاہ جی  واپس جانا ہے یا یہاں ہی بسیرا کرنا ہے؟۔ بابا جی کے اس استفسار پر میں کافی دیر تک خاموش رہا پھر   بابا جی خود ہی فرمانے لگے کہ” اگر شاہ جی آپ  گھر واپس جانا چاہتے ہیں تو چلے جاؤ ان شاہ اللہ آپ خیرو عافیت سے  اپنے خانہ پر پہنچ جاؤ گۓ۔“ بس پھر میں نے وہاں سے چلنا شروع کر دیا۔ کیا بتاؤں کے میرے چلنے کی رفتار اس قدر تیز تھی کہ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میں چلتا کم ہوں اُڑتا زیادہ ہوں۔ مرشدِ پاک کی نگاہ کا بھی کمال تھا اور میرے خالص عشق کا دھمال بھی تھا۔ تو بس میں نے شام آکر یعنی نمازِ  مغرب کالابن میں ادا کی۔“  ان باتوں سے معلوم ہو ہی جاتا ہے کہ حضرت کا اولیاءِ کاملین کے ساتھ کس قدر روحانی و ایمانی لگاؤ اور دینی تعلق تھا۔“  اس ولیِ کامل کی ایک اور کرامت ان کے برادرِ اکبر  ،حضرت پیر سید یٰسین حسین شاہ  بیان فرماتے ہیں ، ” حاجی صاحب کوٹ پر لمبردار سردار یعقوب خان   صاحب ،جن کے دور میں یہ مشہور تھا اور سچ بھی ہے کہ لمبردار سردار یعقوب خان کے دور میں کھبی پولیس ان کے گاؤں میں آکر کسی معاملے میں ان  کی کسی سامی کو کبھی گرفتار کر  کےنہیں لے گئی تھی۔ لمبردار سردار جی  کا دور بہت  ہی سنہری دور رہا ہے  اور سردار جی بھی اولیاء سے بے حد رغبتِ حق رکھتے تھے۔ لوگ انہیں "لالہ جی "کوٹ والا کے نام سے پکارا کرتے تھے،خدا ان کی مغفرت فرماۓ امین! لمبردار،سردار یعقوب خاں (لالہ جی) کو خدا کی جانب سے ،نبیؐ کے ساتھ عشق اور اولیاء کے ساتھ سَچی و صاف عقیدت رکھنے کی وجہ سے ،ہر ایک نعمت سے نوازا گیا تھا۔ حسن،جاں،مال اور دولت کی فروانی، نعمتِ اولاد، خوش اخلاق اور انداز بے باک۔۔ تمام صفاتِ حسنہ سے (لالہ جی) خدا کے فضل و کرم سے سرشار تھے۔ آپ اپنی آواز ( اَلا) میں اپنا منفرد مقام رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کے بیٹے سردار کفیل خاں صاحب اپنے بچپن کے دور میں اپنے نونہال (نانا نانی) کےہاں سڑھوتی تشریف لے گۓ مگر گھر کسی کو بتا کر نہ گۓ تو شام سے کچھ پہلے لالہ جی اللہ ان کی مغفرت فرماۓ بہت ہی نیک ہوا کرتے تھے،مجھ سے (تذکرہ نویس ،رمیز راجہ ) بے حد پیار فرمایا کرتے تھے اور مجھے نیکا مولوی کہا کرتے تھے۔۔تو سردار جی نے ان کی تلاش شروع کی تو ان کی شک کی سوئی سڑھوتی جا پہنچی اب کنفرم کیسے ہو کہ وہ وہیں پر یعنی اپنے نونہال میں براجمان ہیں اور نونہال کے سدا بہار پیار والے درخت کے زیرِ سایہ ہیں ، فون تو ہوتا نہیں تھا یہ تو بھلا ہو اٹل بہاری واچپائی جی کا کہ جن کے دورِ حکومت میں سن ستانوے آٹھانوے میں سپریم پاور امریکا کی ایک "نوکیا“ نامی موبائل مینو فیکچرینگ کمپنی نے ملکِ بھارت میں اپنی انٹری ماری تھی۔ ارے کیا بات کرتے ہو! موبائل تو کل کی بات ہے۔۔خیر لالہ جی نے” اَلا“ کے ذریعے اپنی آواز سڑھوتی تک پہنچا دی۔وہ اس طرح ممکن ہوا تھا کہ لالہ جی نے چھترال کسی  آدمی تک اپنی آواز پہنچائی اس نے آگے۔۔اگلے نے اگلے کو اس نے اس سے آگے والے کو۔۔۔تو یوں لالہ جی نے سردار کفیل خاں جو موجودہ وقت میں کسی تعارُف کے محتاج نہیں ہیں، کے بارے میں کنفرم کر ہی لیا ۔ جی ہاں تو انہیں کے گھر پر حاجی صاحب ختمِ نجات کا وظیفہ فرما رہے تھے کہ بھٹی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام کالا تھا، حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ حاجی جی  رات کو میرے ہاں چوری ہو گئی ہے، چور زیور چرا لے گۓ ہیں۔ تو حاجی صاحب اللہ ان کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرماۓ ،  بطورِ لطافت  فرمانے لگے کہ کالیا تو وی زیور پینناں ویں“ یعنی زیور تو عورتوں کا حاصہ ہوتا ہے۔ سجنا سنورنا تو عورتوں کی طبعی فطرت میں ہوتا ہے۔ تب کالا بھٹی کہنے لگا ”حاجی جی میری زوجہ کا زیور ہے جس کی   بابت میں آپ کی خدمت میں عرض گزار ہو رہا ہوں۔ “ رات کا تقریباً آخری پہر تھا حاجی صاحب نے  اس  سے کہا کہ جا تیرے گھر کے پاس جو مَنّو کا درخت ہے اسی کے نیچے  زیور  دبایا گیا ہے ؛ جا! جا کر اٹھا لیے اور ابھی جا کیوں کہ صبح کے وقت تجھے  تیری عورت کا زیور شاید ہی ملے۔ شاید تو نے یہ محاورہ سن رکھا ہو گا” پچھتائے کیا ہوت جب   چڑیا چُگ جائے کھیت۔“ بس پھر کیا تھا  کالا خان نے اپنی ٹانگوں پر سپیڈ پئوڈر مَلا اور  چلا گیا اور جس جگہ حاجی صاحب نے اسے زیور ڈھونڈے کے لیے کہا تھا عین وہیں سے اسے  برآمد ہو گیا۔“   
 
بابا نے چادر تنوا دی 
 

مرکزی جامع مسجد کوٹ کے امام و خطیب ،علامہ مولانا راجہ مختار احمد خاں نقشبندی فرماتے ہیں، ”ایک مرتبہ حاجی صاحب اپنی مبارک زبان سے ،میں نے یہ فرماتے ہوۓ اپنے کانوں سے سماعت کیا ہے  کہ حاجی صاحب کے خداۓ بزرگ و برتر  درجات بلند فرماۓ ”فرماتے ہیں کہ میں (حاجی صاحب)  ولیِ قلندرِ دوراں سے ملاقات کا اشتیاق لیے ،ان کے دربار گونتریاں پونچھ میں حاضر ہوا تو وہاں پہنچ کر معلوم  ہوا کہ  سائیں بابا میراں بخش علیہ رحمہ   کہیں اور کسی جگہ پر تشریف لے گۓ  ہیں۔ چنانچہ میں بھی جگہ کی بابت دریافت کر کے وہاں  ہی تشریف لے گیا تو جب اس مقام پر جہاں بابا جی  موجود تھے  پہنچنے کو تھا کہ  بابا جی کی نظر مجھ پر پڑی تو بابا جی نے فوراً  دو آدمیوں سے  کہہ کر اپنے سامنے چادر تنوا دی اور  ایک آدمی کے ذریعے مجھے واپس لوٹ جانے کے لیے کہلوا بھیجا۔ میں واپس جانے لگا تو سائیں صاحب نے پھر ایک شخص میری جانب چلایا اور مجھے واپس بلوا لیا۔ کچھ دیر ابھی بیٹھے ہی  تھے کہ اتنے میں ایک شخص  محفل میں  حاضر ہوا اور سائیں بابا سے فرمانے لگا کہ گیارویں شریف تیار ہے۔تب اسی محفل میں سے ایک شخص بولا کہ وضو کر لیتے ہیں پھر دعا کرتے ہین۔۔تبھی بابا جی میری طرف متوجہ ہوۓ اور کہنے لگے ”شاہ جی تَم دُعا منگو ۔۔تَم کلائی وَر ناغے آیاں وائیں “ یعنی  شاہ جی آپ دعا فرمائیں آپ تو کلائی پونچھ پر غسل فرما کر آۓ ہو۔ پھر میں نے تبروکِ گیار ویں شریف پر دعا فرمائی۔

  والد محترم

حضرت پیر سید الحاج  عبدلخالق حسین شاہ ؒ کے والد ماجد کانام حضرت پیر سید نبی شاہ تھا۔  ان کے (حاجی )والد محترم کے متعلق کہا جاتا ہے کہ نہایت ہی شریف  شخصیت کے مالک تھے۔ کہا جاتا ہے کہ  تنگدستی و عُسرت بھری زندگی کے باوجود وہ اپنی محنت کی کمائی سے اپنی اولاد کی کفالت کرتے رہے تھے یہی وجہ ہے ، الحاج پیر سید عبدلخالق حسین شا علیہ رحمہ جیسے ولیِ نہاں ,اولادِ نرینہ اور صافِ سینہ سے، اللہ ﷻ نے  نوازا تھا۔ آپ کے والد گرامی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ آپ بھی پہلوان تھے اور اپنے زمانے کے منفرد پہلوان۔ حضرت سید نبی شاہ اور ان کے بھائی کے ما بین کسی زمینی تنازعہ پر اکثر یلغار ہوتی رہتی تھی اور معاملہ کوٹ کچہری تک جا کر دم لیتا تھا۔ آپ  عجز و انکساری  کے وصف سے حد درجہ  نوازے ہوۓ تھے۔  ایک زمانہ تھا جب ڈنہ کی پہاڑی پر رزق کی قلت ہوا کرتی تھی اور یہ اہلِ رسول اس غرض  سے  دوسرے مالداروں کی زمینوں کو بطور پہیال یا حصہ دار کما کر بود و باش  کا ذخیرہ  اکھٹا کر کے  لاتے تھے اور اپنے بال بچوں کو کھلاتے تھے۔  مگر اب موجودہ وقت میں ڈنہ شریف پر لنگر جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر  انگنت اور بے شمار  لوگ  اس نعمت سے مستفید  اور فیضیاب ہو رہے ہیں۔ یاد ر ہے کہ جس لنگرِ پاک کی یہاں بات ہو رہی ہے وہ لنگرِ غوثیہ ہے جو ولیِ برحق پیر سیّد مہر علی شاہ سرکار کی زیرِ قیادت جاری و ساری ہے۔ اللہ کے اس ولی کی شان نرالی ہے۔ یہاں پر ایک عظیم الشّان جامع مسجد ہے اور ایک نہایت ہی عمدہ اور معیّاری مدرسہ بھی قائم ہے۔  یہ  دینی ادارہ عصرِ حاضرہ کے عین مطابق علوم و فنون کا سرچشمہ و منبہ ہے۔ یہاں پر حضرت  علامہ مولانا حافظ نصیر احمد رضوی  امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ موصوف کا ذکر سطورِ بالا میں بھی ہو چکا ہے۔ حافظ صاحب سعاداتِ کرام کے بے حد عقیدت مند ہیں جو کہ ہر اُمتی کو ہونا بھی چاہیے۔ میں بطور ایک ادنا سا کالم نویس ، سوانح نگار یا  آپ قارئین مجھے تذکرہ نگار کہہ لیں، حافظ نصیر احمد رضوی صاحب کو  مسالکِ پلیدیہ کے لیے زبان دراز اور مسلکِ حق کے لیے زبان گو“ قرار دیتا ہوں۔  جب یہ خطاب فرماتے ہیں تو بھلے ہی  بجلی کا محکمہ بجلی کاٹ دے ، چاہیے انویٹر بھی ڈیڈ ہو جائے جس سے لوڈ اسپکیر بند ہو  کر ٹھنڈا پڑ جاۓ مگر خدا کے اس شیر کی یہ خاصیت ہے کہ آواز اتنی بلند کہ بہَ بانگِ کوہ  جمِ غفیر کو مخاطب کر سکتا ہے۔ حافظ  نصیر  صاحب کے لیے اسپکر کا ہونا یا نہ ہونا کچھ اہمیت نہیں رکھتا بلکہ    ناخواست ہے ۔!ماشااللہ
     
آ پ کے برادرانِ محترمان

 

آپ کے برادران میں ،حضرت پیر سید الحاج یٰسین حسین شاہ ،حضرت پیر سید نذر حسین شاہ، حضرت ولایت حسین شاہ اور خود حضرت پیر سید عبدلخالق حسین شاہ علیہ رحمہ شامل تھے۔ یہاں آپ کو بتاتے چلیں کہ ان چاروں بھائیوں کی نیچر ایک دم ایک دوسرے سے الگ اور منفرد رہی ہے۔ حضرت پیر سید الحاج ، یٰسین حسین شاہ بھارتی فوج میں اپنی نمایاں خدمات سر انجام دینے کے بعد نہایت ہی پروقار  طریقے سے سبک دوش ہو چکے ہیں۔ حضرت پیر سید نذر حسین شاہ  صاحب کے ایک لختِ جگر یا یوں  سمجھیے کہ  صاحبزادہ پیر سید نازک حسین شاہ  بھی بھارتی فوج میں اپنی تمام تر خدمات انجام دینے کے بعد بطور  کپٹین سبک دوش ہوۓ ہیں۔ پیر سید نذر حسین شاہ اپنے زمانے کے نامور شکاری اور قابلِ فخر مکینک رے ہیں۔ سید نذر حسین شاہ شکار میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔آپ کے گھر ہر روز باز حملہ کرتا اور مرغی کا ایک چوزہ لے اُڑا کرتا تھا۔ ایک روز آپ کے سامنے باز سے یہ گُستاخی سرزد ہو گئی تو آپ سے رہا نہ گیا آپ نے اپنی لائسنس یافتہ رائفل سے ایسا نشانہ بندھا کہ باز کی روح نکلنے سے باز نہ رہ سکی ۔ پیر سید ولایت حسین شاہ   غدر کے ہنگامے کے دوران ملکِ پاکستان چلے گۓ تھے جہاں  وہ  بطور مہاجرانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور رہے تھے۔ ان بھائیوں کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ ایک بھائی بچپن میں ہی اس عارضی دنیا سے رحلت فرما گیا تھا۔ جب کہ ایک بہن جس کا نام سیدہ شہزادی تھا آسمانی بجلی گرنے سے جامِ شہادت نوش کر گئیں تھیں۔ جب شہزادی سیدزادی کی شہادت ہوئی تو آپ نے اپنے پیچھے اپنا ایک شیر خوار لختِ جگر  چھوڑا تھا۔ اور یہ بچہ کوئی اور نہیں موجودہ دور کا ولیِ کامل المجذوب حضرت سید عابد حسین شاہ ”پیرِ جلالی“ ہے۔ اس ولیِ مجذوب کی کفالت بھی حاجی صاحب نے کی تھی۔ 

 

حاجی جی بطور دعا گو

 

ولی نہاں حضرت سید الحاج عبدلخالق حسین شاہ  نے تحصیل مینڈھر کے مقام  چھوٹے شاہ بادشاہ علیہ رحمہ کے دربار پر اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بطور دعا گو  گزارا تھا۔ یہاں یہ امر بھی ”نئی نویلی نسلِ نیٹ“ کو بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ تحصیل مینڈھر کا قدیم نام ”دھرم سال“ ہے جب کہ راجہ منیندر کے نام سے مینڈھر کا نام پڑا ہے۔ چھوٹے شاہ بادشاہ سرکار جہاں دو  معصوم بھائی بہن جلوہ افروز ہیں ، کی بھی انگنت کرامات کا ذکر کچھ تھوڑا بہت کتب میں  جب کہ زیادہ  تر  بزرگوں کی زبانی سینہ بسینہ جو روایات ہیں، میں ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب ان دونوں بھائی بہن کا بچپن کا زمانہ تھا تب یہ سیڑی ڈاب کے پاس بیٹھ کر کھیل رہے تھے۔ وہاں پر قریب ہی سے دھڑہنے توڑ کر کھیل رہے تھے۔ جس دھڑہنے کو انہوں نے جس بھی جانوَر کا نام دے کر سیڑی کی ڈاب میں پھینکا وہ حقیقتاً وہی جانور بن کر ڈاب سے باہر آیا۔ لوگوں نے جب یہ حیرت انگیز کرامت دیکھی تو ان کے والد ماجد کو  ان کا یہ عمل بتایا۔تحقیق کے بعد جب ان کے والد کو اس حقیقت کا راز کھلا تو وہ سمجھ گے کہ ان بچوں نے تو اپنی ولایت کا رازِ پوشیدہ عیاں کر دیا ہے تو وہ انہیں ڈانٹنے ڈھپٹنے لگے  جب ان  دونوں نے دیکھا کہ ہمارے اس فعل سے ہمارے ابا حضور نا خوش ہیں تو آپ دونوں نے  اپنے ابا جاں کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے  بھاگ  جانا ہی عافیت بھرا اور  مناسب سمجھا اور بھاگ ہی گۓ۔اسی چھوٹے شاہ کے مقام پر زمیں شق ہوئی  اور وہ دونوں بھائی بہن زندہ   اس میں  سما گۓ۔   اس  پہنچی ہوئی زیارت پر انہیں انتظامیہ اوقافِ اسلامیہ میں بطور ملازم شامل کیا  گیا تھا۔ اس ولیِ نہاں نے یہاں پر بے لوث خدمات سرنجام دیں اور ولی و ولیہ کاملین کی قربت سے  مستفید ہوتے رہے۔ 

 

سفرِ حج مبارک۔

 

حضرت پیر سید عبدلخالق حسین شاہ ،ولی نہاں نے عین زمانہ ء شباب میں سن 1976 کو سفرِ ححج کیا اور بذریعہء بحری جہاز سرزمینِ پاک پر اپنے قدم رکھے اور ارکان  حج ادا کیے۔ اسی سبب نیک سے آپ اپنے نانا جی حضور کے روزہ مبارک پر مدینہ شریف میں وارد ہوۓ اور   روزہ مبارکہ کی  سنہری  جالیوں کو رج رج کے چومنے کا ظاہری اور روحانی  موقع کا شرف حاصل ہوا۔  آپ جب  سفرِ حج پر روانہ ہوۓ تو آپ کے جگری دوست ڈاکٹر نذیر حسین انؔس  جو  مشہور ادیب اور مصنف ہیں جن کی حال ہی میں پہاڑی شاعری پر مشتمل شعری  تصنیف  ، بعنوان” موجاں عشق نیاں“ دہلی سے  طباعت ہو کر  منظر عام پر  آ  چکی ہے، نے بیان کیا ہے ” رات کے وقت یعنی جس دن حاجی صاحب  سفرِ حج پر  روانہ ہوۓ تو میں نے( انؔس) پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے  پیارے آقا ؐ مدینہ کے تاجدار ،کل نبیوں کے سردار اور دونوں جہانوں کے مختار   سے  پر لطف شکوَہ کیا ،” اللہ کے حبیب ! امّت کے پیارے نبیؐ !  آپؐ نے  اپنے لاڈلے کو اپنے پاس ُبلا لیا  نا!  کیوں کہ وہ آپؑ  کی اہلِ پاک سے تعلق رکھتا ہے اس لیے یانبیؐ آپ نے اسے دربار پر طلب کر لیا۔اور یانبیؐ! مجھے آپ نے نہ معلوم کیا سمجھ کر نہیں بلایا ! نہ ہی کوئی اسباب"۔۔بس پھر کیا تھا کہ  میری آنکھ لگ گئی اور میں اپنے پیارے نبیؐ کا بذریعہءخواب دیدار پاک کا شرف حاصل کرنے میں سرخرو  ہو گیا۔ اللٰہُ اکبر!  دورانِ سفرِ حج آپ کے ساتھ  چوہدھری حاجی صاحب دین عرف حاجی صاحوا، حاجی نوردین،حاجی حاکم دین عرف مستری حاکم (قریشی) اور  حاجی دوست محمد عرف حاجی دوسہ شامل تھے اور یہ حضرات بھی اسی  بحری جہاز  کے ذریعے ہی سر زمینِ مقدّس یعنی سعودی عرب پر پہنچے تھے۔ 
 
تعمیرِ تکیہ شریف   

 

جموں و کشمیر کے اولیاء کے سردار ولی،سرکارِ جبلی، حضرت پیر سید بابا غلام علی شاہ بادشاہ  علیہ رحمہ کی بھیٹک جو  تحصیل مینڈھر کے گاؤں کالابن یعنی پنچایت تکیہ کالابن میں ہے ،پر آپ کو  اوقاف اسلامیہ نے بطور چند ہ وصول کنندہ تعینات کیا تو آپ نے لاکھوں روپیہ  کا چندہ وصول کر کے متعلقہ انتظامیہ کے سپرد کیا جس کی وجہ سے تکیہ شریف پر تین منزلہ مسجدِ پاک کے ساتھ ساتھ دیگر تعمیرات  پاۓ تکمیل کو پہنچی اور یہاں تعمیرات کا  سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔ یہاں پر چندہ وصولی کی غرض سے حاجی صاحب نے ماسٹر ظاہور احمد خان جنجوعہ اور ماسٹر محمد عارف قریشی صاحبان کو بھی تعینات کیا۔ ان دونوں ماسٹر صاحبان نے اس قدر دل جمعی اور لگن سے اپنی خدمات سر انجام دیں کہ  ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں لاکھوں روپیہ چندہ جمع کر کے متعلقہ انتظامیہ کے سُپرد کیا۔ ماسٹر ظاہور احمد خان اور   ماسٹر محمد عارف قریشی یہ دونوں فرشتہ صفت انسان ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دونوں گہرے دوست بھی ہیں ۔ دونوں کا لہجہ نہایت ہی پُر حلیم ہے۔ علم کے اعتبار سے خاموش سمندر ہیں۔ ماسٹر ظاہور احمد خان جنجوعہ اور ماسٹر محمد عارف قریشی  بہترین مصالح بھی ہیں۔ اِن دونوں صاحبان کے ساتھ حاجی صاحب بہت پیار فرمایا کرتے تھے۔ یہاں مَیں ایک عرض  اور کیے دیتا ہوں کہ حاجی صاحب  کو تکیہ شریف کالابن پر لانے کی سعی سب سے زیادہ جموں و کشمیر کی جانی پہچانی شخصیت جو کہ مشہور قانون داں اور سیاستداں ہیں ،میری مراد معروف خاں صاحب ہیں،  نے کی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ موصوف جانتے تھے کہ حاجی صاحب کی وجہ سے  بیرونی نیز اندرونی امداد میں گراں قدر اضافہ ہو جاۓ گا اور ہوا بھی بالکل عین خاں صاحب کی سوچ کے مطابق۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ پنچایت تکیہ کلابن جو کہ ایک الگ پنچایت ہے ، کے  باحثیتِ پنچایت معرضِ وجود میں لانے میں معروف خاں صاحب کا کُلیدی بالکہ کُلی رول رہا ہے۔  

 

 جشنِ میلاد النبیﷺ   

 

ولی نہاں الحاج حضرت عبدلخالق حسین شاہؒ اور بکمال عاشقِ رسول اپنے نانا پاک کی میلاد  بڑے ہی جوش و جذبے اور بے حد عقیدت کے ساتھ  اپنے غریب آستانہ پر  پڑھوایا کرتےتھے۔حاجی صاحب کے گھر بمقام ڈنہ سیّداں میں جب میلاد النبیؐ کا پروگرام یعنی کانفرنسِ پاک  کا انعقادِ پاک ہوتا تھا تو ہر سو سے عاشقانِ رسولؐ  شاندار جلوس کی شکل میں تشریف لاتے اور میلاد کی رونق کو دوبالا کرتے۔ جب ختماتِ  طیّبات کا دور شروع ہوتا تو حاجی صاحب اکثر و بیشتر  ”تسبیح “ کی ذمہ داری لکچرر قدیر احمد خاں کو سونپ  دیا کرتے تھے۔ قدیر احمد خاں کی  دعوت  کو حاجی صاحب حتی الامکان  پورا کرتے ۔ اسی طریقے سے قدیر احمد خاں صاحب کو بھی حاجی صاحب مغفور  اپنے ہاں  تشریف لانے کی  دعوت  دیا کرتے تھے اور لازمی طور آنے کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔ قدیر احمد خاں کی شریکِ حیات کی نمازِ جنازہ بھی حاجی صاحب مغفور کی امامت میں ادا ہوئی تھی۔ خطہ پیر پنجال  کے مشہور و معروف تعلیم داں اور جنجوعہ برادری کے  سرکردہ لیڈر،  اور سابق ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر ، ”سر“ راجہ محمود خاں سے بھی حاجی صاحب کو بڑی الفت و محبّت تھی۔ راجہ محمود خاں صاحب کی ولدہ ماجدہ نے جب اس عارضی دنیا سے پردہ فرمایا اور عالمِ برزخ میں تشریف فرما ہوئیں تو اُن کی نمازِ جنازہ بھی الحاج حضرت پیر سیّد عبدلخالق حسین شاہ علیہ رحمہ کی امامتِ پاک میں ادا ہوئی تھی۔امید ہے کہ میلادِ پاک کا سلسلہ آئندہ بھی ان کے صاحبزادے رفاقت حسین شاہ جاری و ساری رکھیں گۓ! ان شاء اللہ  

 

ولیِ نہاں کا وصال پاک۔

 

حضور پیر سید الحاج  قلیل سی علالت کے بعد
بتارریخ 23 مارچ  2024 بمطابق رمضان 10  اور1445 ہجری کو دن جمعرات صبح آٹھ بج کر چھیالیس منٹ پر  اپنی جاں جانِ آفرین کے سپرد فرما کر اس فانی دنیا سے وصال فرما گۓ۔ آپ کی نمازِ جنازہ نو جوان سید زادہ حضرت علامہ مولانا سرفراز حسین شاہ مدظلہ برکاتہ نے ادا کروائی ۔ آپ کی نمازِ جنازہ دن کے تین بجے آپ کے  ابائی گاؤں  میں ادا کی گئی۔ مجذوب ولی حضرت پیر سید عابد حسین شاہ کے آستانہ کے اوپر کی جانب ایک نۓ قبرستاں  میں   آپ کی آخری آرام گاہ بنی۔ آپ کی نمازِ جنازہ میں دونوں اضلاح راجوری پونچھ سے سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت فرمائی ۔آپ کی جہاں بہت ساری  عیاں اور نہاں کرامت تھیں وہیں آپ کی ایک کرامت  یہ بھی تھی کہ  آخری دم تک آپ ہر ایک عیادت دار کو پورے حوش  وحواش سے  پہچانتے رہے اور اس کی سلام کا جواب دیتے رہے۔ پھر جب عین وصال کا وقت آیا تو آپ نے کلمہ  طیّبہ پڑھ کر اپنی جان  جانِ آفریں  کے سپرد کی۔ بقول غالب،؎ جاں دی، دی ہوئی اسی کی تھی : حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ آپ  نے اپنے پیچھے اپنا  اکلوتا لختِ جگر پیر سید رفاقت حسین شاہ  چھوڑا ہے۔رفاقت حسین شاہ کے ہاں بھی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔  صاحبزادہ  (رفاقت ) کے   اندر بھی اپنے والد کی طرح اوصافِ حسنہ موجود ہیں مگر اس نیک سیرت شہزادہ کو فوراً اپنی تمام صلاحتوں کو بروۓ کار لانے کی اشّد ضرورت ہے۔یہ بات اس لیے بھی نظر آرہی ہے کہ حاجی صاحب مغفور کے چاہنے والے اب حضرت سید رفاقت حسین شاہ  میں اپنے ولی کامل کا عکس دیکھیں گۓ۔ آپ کو  اس امر سے بھی روشناس کرتے چلیں کہ الحاج  حضور سید عبدلخالق حسین شاہ ؒ  علاقے کے امام و نکاح خواں بھی تھے۔جب کہ اب یہ ذمہ داری ان کے نیک سیرت و صورت  او ر اکلوتے لخت  جگر کے نازک اور نا تجربہ کار   شانوں پر پڑھ رہی ہے۔میں (رمیزراجہ) سید رفاقت حسین شاہ کی رفاقت میں زمانہء کالج میں رہا ہوں ، میں انہیں  اگر  ان کے متعلق سب کچھ نہیں تو بہت کچھ جانتا ہوں۔یہ بڑے ناز و نیاز سے پلے بڑے ہیں۔ان کی ہر جائز مانگ کو ان کے والدین نے مانا ہے اور حتی الامکان پورا بھی کرتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے غریب سے غریب  ماں باپ بھی اپنی اولاد کے لیے بادشاہ ہوا کرتے ہیں۔سید رفاقت شاہ کو عربی و فارسی زبانوں کے ساتھ ساتھ   تقریباً تمام عصری زبانوں اور علوم پر دستِ قدرت حاصل ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ میری ناقص راۓ ہے کہ شاہ صاحب کو اپنی طبعیت میں عنصرِ  حلم  پیدا کرنا ہوگا اور بغیر کوئی دقیقہ فروگزاشت کیے ہوۓ عوام کے ساتھ گُل مل جانا ہوگا۔” کیوں کہ وہ گُلاب ہی کیاجس سے خوشبو نہ آتی ہو “اور ساتھ ہی ساتھ انہیں اپنے کارو بار کو بھی  متناسب  طریقے سے جاری رکھنا ہو گا۔ حاجی صاحب کے اس لاڈلے نورِ نظر یعنی رفاقت حسین شاہ کے علاوہ  دو شہزادیاں بھی ہیں  ۔ ولیِ کامل کی زوجہ محترمہ کا نام  نامی سیدہ بلقیس بی بی ہے۔ یہ بھی بے حد خوش اخلاق اور ملنسار ہیں۔ حاجی صاحب کی علالت کے دوران اس خوش بخت سید زادی نے  اپنے خداۓ مجازی  کی   خوب خوب خدمت کی ہے_دعاء ہے خدا بی بی صاحبہ کی خدمات اپنے حضور قبول فرماۓ اور سیدہ بلقیس بی بی کا سایہ اپنی اولاد اور ہم سب پر تا دیر قائم و دائم رکھے اَمین

    بندرگاہ پر جہاز لنگر انداز

حاجی صاحب جب ارکان حج مکمل کر نے کے بعد بذریعہ بحری جہاز بھارت کی بندرگاہ ممبئ کی جانب واپس لوٹے، تو ان کے دماغ میں یہی خیال دوڑے جارہا تھا کہ ممبئ بندرگاہ پر جب بحری جہاز لنگر انداز ہو جائے گا تب ”میں اتر کر کیسے اگلی منازل طے کروں گا؟“  وہ فرماتے ہیں ”کیوں کہ میری جیب میں کرایہ ہے نہ کرایے کی ذات۔ البتہ حاجی صاحب فرماتے ہیں ”آخر کار ہمارا بحری جہاز بھارت کے فلم انڈیسٹریل شہر کی بندرگاہ پر پہنچ کر لنگر انداز ہوا تو تمام حجاجِ کرام باہر نکلے اور ایک دوسرے کے ساتھ مصافہ کرنے اور گلے ملنے کے بعد سلامِ ودع کہتے ہوئے اپنی اپنی منزلِ مقصود کی جانب بخیر و عافیت بڑھ گئے۔ اب میں اسی سوچ بچار میں پڑا تھا کہ کرایہ کہاں سے میّسر ہو اور میں اپنی اگلی منزل کی طرف بڑھ سکوں۔ تبھی کہتے ہیں ، ” خدا کا ایک نیک شخص  میرے پاس آیا اور میرے پریشان ہونے کی وجہ دریافت کی۔تب میں نے اس نیک سیرت و خوش شکل آدمی کو اپنے پریشان ہونے کی وجہ سنائی۔ تب اس شخص نے مجھ سے کہا آپ فکر نہ کریں سب خیر ہو گی پھر اس نے مجھ سے نعتِ پاک سننے کی فرمائیش کی جسے میں نے فوراً ہی خوشی خوشی پورا کیا۔ نعت پاک سماعت کرنے کے بعد اس نیک شخص نے مجھے واپسی کا سفر خرچہ دیا تو میں گھر پنچا۔ 

 پندرواں/قراٰن خوانی 

حاجی صاحب کے وصال کے پندرہ روز بعد  "فاتحہ خوانی“  کا شاندار احتمام ،اُن کے گھر ڈنہ سیّداں کے مقام پر  کیا گیا۔اس احتمامِ فاتحہ خوانی میں بڑی تعداد میں علماء ،فضلاء، حفّاظ اور قراء نے تشریف فرما کر ثواب دارین سے اپنے اپنے  کشکول بھرے۔ اس دعایہ محفل میں اچھی خاصی تعداد میں حاجی صاحب کے دیوانوں،مستانوں اور چاہنے والوں نے حصہ لیا اور اپنے ہدیاتِ معظمات کو حاجی صاحب مغفور کے حق میں عقدت کے ساتھ ملت فرمایا۔ صاحبزادہ سید رفاقت حسین شاہ اور اسرار حسین شاہ (حاجی صاحب کے داماد) نے تمام عقیدت مندوں کا شکریہ ادا کیا۔ اختتامی دعاء الحاج سیّد یٰسین حسین شاہ اور سید نذر حسین شاہ مدظلہ برکاتہما کی زیرِ صدارت روزہ افطاری سے چند منٹ قبل کی گئی۔

 

پیرِنہاں کی تقریبِ چہلم 

 

الحاج سیدّ عبدالخالق حسین شاہ کی تقریبِ چہلم  کا پروگرام بروز جمعرات، شوال ١٦\ بتاریخ  25 اپریل 2024 کو اُن کے غریب مگر بندہ نواز آستانے پر منعقد ہوا۔اس تقریبِ چہلم میں  بڑی تعداد میں علماء،حفاظ،قراء اور ادبا نے شرکت کی۔اس  تقریب کی صدارت ، سیّد الحاج یٰسین حسین شاہ کر رہے تھے۔ مہمانِ ذی مرتبت کے عہدہ پر جانی پہچانی    شخصیت ، حضرت سیّد سرفراز حسین شاہ مدظلہ  برکاتہ  فائز رہے۔ دعاۓ اختتامیہ بھی آپ ہی نے فرمائی۔ اس تقریب میں حافظ نصیر احمد رضوی صاحب مہمانِ ذی وقار کے عہدے پر فائز رہے۔جبکہ ڈاکٹر نذیر حسین انسؔ مہمانِ خصوصی کے اہم مقام پر فائز رہے۔ متذکرہ تقریب میں نشستِ اوّل میں کلام اللہ شریف کی تلاوت کی گئی اور نشستِ دوم میں ختمِ انبیاء  کے سلسلے میں کلمہء طیبہ کی تسبیح کی گئی۔ الحاج سیّد عبدلخالق حسین شاہ مرحوم کے اکلوتے  صاحبزادے، محترم سیّد رفاقت حسین شاہ نے تمام شرکاء کی آمدِ بسعادت پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ یاد رہے کہ اسی تقریب کے اختتام پر عوام نے سید رفاقت حسین شاہ کو امام و خطیب اور نکاح خواں قرار دیا۔ یہ اعلان بااتفاقِ راۓ سے ہوا۔  



  • کالم نویس و تذکرہ نگار: رمیز راجہ
  • اینکر : نیشنل ٹی وی نیوز
  • ربطہ: 9149735616
Email: rameezrajasustani93@gmail.com

2 comments: